کہی ان کہی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
کہی ان کہی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 9 جولائی، 2014

یہ کیسی کاپی هے..؟


" یہ کیسی کاپی هے..؟ " اس نے پوچھا..

" اس میں دعائیں لکھی هیں.. میرے کئی ایک دوستوں نے کہا تھا کہ خانہ کعبہ میں همارے لئے دعا مانگنا.. میں نے وه سب دعائیں اس کاپی میں لکھ لی تھیں.. "

" دھیان کرنا.. " وه بولے.. " یہاں جو دعا مانگی جائے وه قبول هو جاتی هے.. "

میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا..

بولے.. " اسلام آباد میں ایک ڈائریکٹر هیں.. عرصہ دراز هوا انہیں روز بخار هو جاتا تھا.. ڈاکٹر ' حکیم ' وید ' هومیو سب کا علاج کر دیکھا.. کچھ افاقہ نہ هوا.. سوکھ کر کانٹا هو گئے..
آخر چارپائی پر ڈال کر کسی درگاہ پر لے گئے.. وہاں ایک مست سے کہا.. بابا دعا کر کہ انہیں بخار نہ چڑھے..
انہیں آج تک پھر بخار نہیں چڑھا..

اب چند سال سے گردن کے پٹھے اکڑے هوئے هیں.. وه اپنی گردن ادھر ادھر هلا نہیں سکتے.. ڈاکٹر کہتے هیں یہ مرض صرف اس صورت میں دور هو سکتا هے کہ انھیں بخار چڑھے.. انھیں دھڑا دھڑ بخار چڑھنے کی دوائیاں کھلائی جا رھی هیں.. مگر انھیں بخار نہیں چڑھتا.. "

دعاؤں کی کاپی میرے هاتھ سے چھوٹ کر گر پڑی.. میں نے اللہ کے گھر کی طرف دیکھا..

" میرے الله.. کیا کسی نے تیرا بھید پایا هے..؟؟؟ "

اقتباس لبیک از ممتاز مفتی



ہفتہ، 21 جون، 2014

عکس


ﮐﺘﻨﺎ ﺭﻭﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﺧﺎﻃﺮ ۔ ۔ ۔
ﺍﺏ ﺟﻮ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﺗﻮ ﮨﻨﺴﯽ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ


جہنم کے تصور سے رونا


جہنم کے تصور سے رونا
:فرمان الہی 
ترجمہ : پس اُنہیں چاہیئے کے بہت کم ہنسیں اور بہت زیادہ روئیں ، ان اعمال کی وجہ سے جو وه کرتے تھے
 :رسول اكرام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا 
لوگوں ! اپنے گناہوں پر خوب روؤ ، اگر تمہیں رونا نہ آئے تو رونے جیسا چہرہ ہی بنا لو . قیامت کے دن جہنمی اس قدر روئیں گے کے ان کے رخصاروں پر آنسوؤں کی نیحرین جاری ہو جائینگی -        ابن ماجہ 

بدھ، 28 مئی، 2014

“اتفاق”




ارتقا پسندوں کا جهوٹا خدا “اتفاق” ہے۔
ڈارونیت پسندوں کے مطابق، زندگی کا زمین پے غیر معمولی طور پے مختلف قسم کا ہونا صرف ایک “اتفاق” کی وجہ سے ہے۔ یہ کہنے سے بچنے کے لئے کہ “اﷲ نے انہیں بنایا” ڈارونیت پسندوں نے اتفاق کو ہی اپنا خدا مان لیا ہے اور یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ اندھے اور ناقابلِ یقین واقعات نے اس شاندار اور حیران کن طور پر پیچیدہ زندگی کے نظام کی بنیاد رکھی ڈارونیت نے اس مضحکہ خیز اور سطحی نظرئے سے لوگوں کو اندھیرے میں رکھنا ممکن بنا لیا۔ جس طریقے سے پروفیسرز یونیورسٹیز میں لیکچرس دیتے ہیں اور سائنسدان اور اساتذہ جنہوں نے پڑھا ہے اور تحقیق کی ہےوہ ان بے ترتیب واقعات کو ایسے پیش کرتے ہیں جیسے کہ ان واقعات کو تخلیقی عقلمندی تھی اور سوچنے کے اور فیصلے لینے کے قابل تھے، اور جیسے وہ ہی تھے جنہوں نے ایسے غیر معمولی نظام پیدا کئے۔﴿معاذ اﷲ﴾
ارتقا پسندوں کا جهوٹا خدا “اتفاق” ہے۔
اتفاق ارتقا پسندوں کا جهوٹا خدا ہے، جسے سمجھا جاتا ہے کہ اس نے سب چیزوں کو پیدا کیا اور معجزات کرتا ہے۔ ڈارون کے سرسری نقطہ نظر کے مطابق، وقت اور اتفاق، عجیب طریقے سے ہر چیز میں زندگی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ غیر منطقی نظریہ یہ بتاتا ہے کہ اتفاق وہ کرلیتا ہے جو کہ انسان بھی نہیں کرسکتا اور ایک طرح سے سائنسدانوں اور ان کی لیبارٹریز سے کئی گنا زیادہ علم، صَلاحِیتیں اور وَسائِل رکھتا ہے۔ یقیناً،کسی بھی باخبر اور غور و فکر کرنے والے اور صحیح اور غلط کی پرکھ رکھنے والے شخص کے لئے اس دعوٰے کو صحیح ماننا ناممکن ہے۔ عالمی سطح پر اس نظرئے کی غیرمنطقیت اور بیوقوفی کو دنیا میں اچھالنے کے نتیجے میں ارتقا پسندوں نے “اتفاق” کا لفظ استعمال کرنا چھوڑ دیا ہے۔ وہ یہ تصور کر رہے ہیں کہ دوسرے اتنے ہی غیر منطقی الفاظ استعمال کر کہ خود کو بیوقوف لگنے سے بچالینگے۔ چاہے وہ حادثہ، یا اتفاق، یا بے ترتیب واقعات کی بات کریں ، تب بھی وہ ایک ایسے منظرنامے کے بارے میں بات کر رہے ہیں جس میں غیر شعوری واقعات ایک متوازن، سڈول اور غیر معمولی طور پر خوبصورت زندگی والی دنیا پیدا کرتے ہیں۔ پر یہ دعٰوے ان کو مزید رحم کے قابل بنا دیتے ہیں۔
ڈارونیت پسند جو کہ زندگی کی ابتدا کو ارتقاء کی اصطلاحات میں بیان کرنا چاہتے ہیں یہ بتانے سے بھی قاصر ہیں کہ صرف ایک واحد پروٹین بھی اپنے آپ کیسے وجود میں آیا۔ یہ پہلی اور بہت اہم حقیقت ہےجو کہ ڈارونیت پسندوں کے دھوکے کے بارے میں جاننی چاہئے۔ ایک پروٹین کی بھی تشکیل کے بارے میں بتانے سے قاصر، ڈارونیت پسند واضح طور پردھوکہ دہی کا سہارالے رہے ہیں ۔ جو بھی من گھڑت کہانی وہ زندگی کی ابتدا میں بتاتے ہیں سب مصنوعی ہے۔جس طریقے سے یہ روشنی کی طرف آیا ہے اور جس طرح سے لاکھوں زندہ فوسلس جو کہ کئی سئو لاکھ سال بنا تبدیل ہوئے رہیں ہیں ڈارونیت کے خاتمے کو یقینی بنا دیا ہے۔


ہفتہ، 24 مئی، 2014

میری تائی کہا کرتی تھیں

 کہ تم لوگوں کے منہ بند نہیں کر سکتے وہ جو چاہیں گے کہیں گے ۔ پھر لوگوں کے ذہنوں پر کسی کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا ۔ صرف اپنے ذہن پر ہوتا ہے اور بیوقوف لوگ اپنے ذہن پر کنٹرول کے بجائے دوسروں کے ذہنوں پر طاقت آزمائی شروع کر دیتے ہیں ۔
جب آپ کو یہ بات سمجھ آ گئی تو پھر آپ کو لوگوں کی تنقید اور تبصرہ کبھی بھی تکلیف نہیں دے گا ۔
اشفاق احمد بابا

بھلا کون ھے




میں جب یونیورسٹی میں اپنے ڈیپارٹمنٹ میں داخل ھوتا ھوں، تو سب سے پہلے میری نظر سٹوڈنٹ نوٹس بورڈ پر پڑتی ھے۔ وھاں عام طور پر کسی نہ کسی کو سالگرہ مبارک کہنے کے لئے کوئی نہ کوئی چارٹ سجا ھوتا ھے۔ میں اسے دیکھ کر مسکراتا ھوں، اور سوچتا ھوں کہ شاید کبھی میرے لئے بھی کوئی ایسا چارٹ لکھ سکے۔ 
پھر میرے پاؤں دائیں طرف مڑ جاتے ھیں، اور میں سیڑھیاں چڑھنے لگتا ھوں۔ میں جب ڈیپارٹمنٹ کی اوپر والی منزل پر پہنچتا ھوں، تو ایک تکلیف دہ منظر میری بینائی کا مذاق اڑانے لگتا ھے۔ سامنے دیوار پر لکھا ھوا ایک بے رحم لفظ جیسے میرے قدموں کی زنجیر بن کر مجھے روک سا لیتا ھے۔ ایک ایسا لفظ، جو مجھے شدید خوفزدہ کردیتا ھے، اور میں خود کو اس ماحول میں نا صرف اجنبی، بلکہ غیر محفوظ بھی محسوس کرنے لگتا ھوں۔
یوں لگتا ھے کہ اسے کسی نے مٹانے کی کوشش کی ھے، تبھی تو نہایت بڑے حروف میں لکھا ھونے کے باوجود بھی وہ لفظ واضح طور پر دکھائی نہیں دیتا، اور شاید اس پر میرے علاوہ کسی نے کبھی توجہ بھی نہ دی ھو۔ مگر وہ اپنی جگہ پر برسوں سے موجود ھے، اوراس معاشرے کی متروک اخلاقی قدروں کا مذاق اڑاتا رھتا ھے۔ میں چاھوں بھی تو اسے نظر انداز نہیں کرسکتا۔ وہ لفظ جیسے میرا گریبان پکڑ کر مجھے شہر بھر کی گلیوں، کوچوں اور بازاروں میں گھسیٹتا پھرتا ھے۔ میرے چہرے پر تھوکتا ھے، اور مجھے شدید ترین ذلّت کے احساس سے دوچار کرانے کے بعد ابدی جہنم کے کسی گڑھے میں دھکیل دیتا ھے۔
وہ لفظ ھے ‘‘کافر’’
خدا جانے کسی نے وہ لفظ کیوں لکھا، اور کس نے اسے ایسا لکھنے کا اختیار دیا؟ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ لفظ کس کو مخاطب کر کے لکھا گیا ھے؟
بھلا کون ھے، جو اس معاشرے میں کسی نہ کسی دوسرے کے لئے کافر نہیں ھے؟ 
بھلا کون ھے، جو خود کو ناجی فرقے سے وابستہ نہیں سمجھتا، اور کون ھے، جو دوسروں کو جہنم کا ایندھن نہیں گردانتا؟ 
ھم سب ھی کسی نہ کسی کے لئے کافر ھیں۔ گویا ھم نے اس تکفیر میں مساوات کا مظاھرہ کیا ھے۔ یہ الگ بات کہ تمام لوگ ‘کافر’ ھونے کے باوجود برابر کے‘ کافر’ نہیں ھیں، بلکہ کچھ لوگ دوسروں سے زیادہ بڑے‘ کافر’ سمجھے جاتے ھیں۔
میں ایک اذیت ناک سوچ میں گم ھو جاتا ھوں کہ میں اس کے علاوہ کر ھی کیا سکتا ھوں۔ 
میں یہاں سے بھاگ جانا چاھتا ھوں، مگر مجھے معلوم ھے کہ میں جہاں بھی جاؤں گا، وحشت اور خوف میرے تعاقب میں رھیں گے۔ میں اپنے ارد گرد دیکھتا ھوں، تو سب لوگ اپنی اپنی دنیا میں مست یوں بغیر رکے چلتے چلے جا رھے ھوتے ھیں، گویا انہیں اس لفظ کی کوئی پرواہ نہیں ھے۔ اور مجھے یوں لگنے لگتا ھے جیسے یہ لفظ کسی اور کے لئے نہیں، صرف اور صرف میرے لئے لکھا گیا ھے۔ 
میں بھاری قدموں سے آگے بڑھ جاتا ھوں اور وہ دیوار کہیں پیچھے رہ جاتی ھے۔ ھاں، دیوار تو پیچھے رہ جاتی ھے، مگر اس پر لکھا ھوا وہ یک لفظی بے رحم فتویٰ میرے دل میں ایک نوکیلے کیل کی طرح ھمیشہ کے لئے پیوست ھو کر رہ جاتا ھے۔
مجھے اپنے ارد گرد گزرنے والا ھرشخص بیک وقت اس لفظ کا لکھاری بھی لگنے لگتا ھے، اور اس لفظ کا مخاطب بھی۔

"عورت کا دل


"عورت کا جو دل ہوتا ہے آدھا شوہر کی محبت سے بھرا ہوتا ہے اور آدھا اولاد کی محبت سے اور وہ اس محبت میں اتنی جہاں دیدہ ہوتی ہے کہ تمام عمر .... ایک محبت کو دوسری محبت میں کبھی گڈمڈ نہیں ہونے دیتی لیکن کبھی کبھی کمبخت یہ دل کا پلڑا کسی ایک طرف سے ایک دم سے جھک جاتا ہے اور وہ اس بارے میں خود سے نہ کوئی لڑائی کر پاتی ہے ، نہ ہی اپنی مخالفت...
(پلڑا....... سعدیہ عزیز آفریدی)

کچھ بھارت کیلئے اور غزوہ¿ ہند


کچھ بھارت کیلئے اور غزوہ¿ ہند
کالم نگار | ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
========================
میرے پرسوں کے کالم میں میری کتاب سفر نامہ¿ ہند”مندر میں محراب“ کا نام غلط شائع ہو گیا ہے۔ اصل میں یہ بھارت کا سفرنامہ ہے۔ میں ایک ہی بار بھارت گیا تھا اور پھر اپنی کتاب کی وجہ سے نہ جا سکا کہ بھارت نے مجھ پر پابندی لگا دی۔ میری محبت بھارت کے سفر میں میرے اندر امڈتی رہی۔ لیکن میرے خیال میں بھارت کا سفر ایک بار کرنا چاہئے۔ میرے اندر پاکستان سے محبت کی فراوانیوں اور حیرانیوں کے کئی مزید چراغ جل اٹھے جو کبھی بجھ نہیں سکتے۔ کچھ لوگوں نے بھارت کا سفر ایک ادبی اور سیاسی وطیرہ بنا لیا ہے۔ ایک بار ادبی لوگوں کے سامنے ہندو مسلسل پاک بھارت سرحد کو لکیر کہہ کر اپنی خشونت کا اظہار کر رہے تھے۔ خیالوں خوابوں شعروں گیتوں اور ادب پاروں کی سرحد نہیں ہوتی۔ تو مرحوم ممتاز شاعر ضمیر جعفری نے ایک ہی جملے میں ان کی ہوا نکال دی۔ ادب کی سرحد نہیں ہوتی مگر ادیب کی سرحد تو ہوتی ہے۔ بھارت میں ادب لکھنے والے کو بھارتی ادیب کہا جائے گا تو پاکستان میں لکھنے والے کو پاکستانی ادیب ہی کہا جائے گا۔ کسی کا ادب عالمگیر اور ہمہ گیر ہو سکتا ہے مگر اس کا تعلق جس علاقے سے ہو گا اس کی معرفت سے اس کی پہچان بنے گی۔
علامہ اقبال پاکستان سے پہلے فوت ہو گئے مگر پاکستانیوں نے انہیں اپنا قومی شاعر بنا لیا ہے تو وہ پاکستانی شاعر ہیں۔ بلکہ نظریہ پاکستان دینے والے بھارت کی دوستی میں تڑپنے والے بھارت سے کہہ کر وہ تنازعے حل کرا دیں جن کے ذکر کے بغیر ہی ہم اس کی دوستی کے دھوکے میں مبتلا ہوئے جا رہے ہیں۔ ایک جنگ بھارت کے ساتھ ہو گی اور ہم بغیر لڑے ہی یہ جنگ جیت جائیں گے۔ محترم مجید نظامی نے صدر ضیا کی بھارت کیلئے دعوت پر کہا تھا کہ اگر تم ٹینک پر بیٹھ کر جا رہے ہو تو میں تمہارے ساتھ چلنے کو تیار ہوں۔ ٹینک سے بھارتی ایجنٹ بڑے پریشان ہوئے مگر وہ امریکی تھنک ٹینک پر غور نہیں کرتے۔ امریکی سوچ بچار کے حوالے سے بھی ٹینک ضروری سمجھتے ہیں۔ یہی سوچ بچار سے بے چارے مسلمانوں اور انسانوں کیلئے عذاب بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
میرے ایک بابا جی پچھلے دنوں اپنے عزیزوں سے ملاقات کیلئے بھارت گئے۔ بابا عرفان الحق عرفان و آگہی کے پیکر ہیں۔ بہت تخلیقی اور بامعنی گفتگو کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں گمشدہ آرزو اپنا پتہ دیتی ہے۔ وہ اپنے عزیزوں کے شہر سہارنپور سے باہر نہ نکلے۔ یہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ یہ مدرسوں کا شہر ہے۔ یہاں ایک ہزار سے زیادہ درس گاہیں ہیں۔ میں نے پوچھا بھارت میں مسلمانوں کی حالت کیسی ہے۔ انہوں نے برجستہ فرمایا کہ وہ پورے مسلمان ہوں گے تو ان کی حالت بھی اچھی ہو گی۔ مسلمان وہاں غریب ہیں۔ ہندو ان سے بھی زیادہ غریب ہیں۔ آبادی بہت ہے اور اسے صحیح طرح ہینڈل نہیں کیا گیا۔ چین میں بھارت سے زیادہ لوگ ہیں مگر وہاں انتظام ایسا کیا گیا ہے کہ کوئی خرابی نہیں ہوئی۔ بھارت میں ریلوے کا نظام اچھا ہے مگر ٹرینوں میں احتیاط کرنا پڑتی ہے کہ آپ کے پا¶ں کسی کے اوپر نہ پڑ جائے۔ گداگر اب پاکستان میں بھی بہت ہیں مگر بھارت میں بہت زیادہ ہیں۔ ہر جگہ لاشوں کی طرح لوگ پڑے ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں سوال کے چراغ بھی بجھ گئے ہیں۔ بھارت میں گندگی بہت ہے۔ صفائی کا تصور ہی نہیں۔ وہاں لوڈشیڈنگ پاکستان سے کم نہیں۔
سہارنپور میں بابا جی نے محسوس کیا کہ وہ لوگ تبلیغ کے بہت شوقین ہیں۔ جبکہ ضرورت عمل کی ہے۔ رسول کریم کا کوئی خطاب دس پندرہ منٹ سے زیادہ کا نہیں۔ کوئی حدیث دس پندرہ سطروں سے زیادہ کی نہیں۔ ان کی زندگی جہد مسلسل کا آئینہ ہے۔ تبلیغ اگر کرنا بھی ہے تو وہ رسول کریم کے طریقے کے مطابق ہو اور رسول کریم تبلیغ کو اپنی عملی زندگی سے مربوط رکھتے تھے۔
بابا جی عرفان الحق نے ایک نارمل سے شہر سہارنپور کے نیشنل میڈیکل کالج میں امن کے موضع پر ایک لیکچر دیا۔ جسے بہت توجہ سے سنا گیا۔ بابا جی نے فرمایا جو چیز آپ اون نہیں کرتے جسے اپناتے نہیں۔ اپنے اندر امن کی کیفیت محسوس نہیں کرتے تو معاشرے کو کیسے دیں گے۔ اپنے ہمسائے کو کیسے دیں گے۔ اسے اپنی ذاتی زندگی سیاسی معاشرتی اور بین الاقوامی زندگی میں کیسے رائج کر سکتے ہیں۔ اس کیلئے تین چیزیں ضروری ہیں۔ یہ باتیں بابا جیسے اعلیٰ دل و دماغ والے حکمت بصیرت اچھائی اور بھلائی کے رازوں سے بھرے ہوئے آدمی کی زبان سے ادا ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ کسی سے موازنہ نہ کرو۔ تم خود اپنا نصیب نہیں لکھتے ہو ٹیلنٹ دینے والا کوئی اور ہے۔ کسی سے مقابلہ نہ کرو اور کسی کی شکایت نہ کرو۔ آدمی کے اندر سکون ہو گا تو وہ باہر بھی سکون پائے گا اور پھیلائے گا۔ رسول کریم حضرت محمد رحمت اللعالمین ہیں۔ ان کا خدا رب العالمین ہے۔ سارے زمانوں‘ سارے جہانوں‘ سارے انسانوں کا رب اور اس کا رسول رحمت ہی رحمت۔ سب کیلئے رحمت اس میں کوئی تخصیص نہیں تفریق نہیں۔ اس زمانے میں لوگوں کو ہلاک کرنے والے ہتھیاروں میں سے ایک بھی مسلمانوں نے ایجاد نہیں کیا۔ ہم نے ایٹم بم بنایا مگر ایجاد نہیں کیا۔ اپنے دفاع کیلئے بنایا۔ رسول عالم نے فرمایا اپنے گھوڑے تیار رکھو۔ ہمارے رسول نے بہت جنگیں لڑیں اور سب اپنے دفاع کیلئے لڑیں۔ صرف مکہ شہر پر چڑھائی کی کہ اس اپنے شہر سے انہیں ذلیل و خوار کر کے نکالا گیا مگر یہ جنگ بابا جی عرفان الحق کے بقول آپنے بغیر لڑے جیت لی۔ جس غزوہ¿ ہند کی طرف اشارہ کیا گیا ہے‘ وہ بھی بغیر لڑے جیت لی جائے گی۔ غزوہ وہ جنگ ہے جس میں آپ بنفس نفیس شرکت کرتے ہیں اور شرکت کی کئی قسمیں ہیں۔ یہ غزوہ¿ ہند ہے اور یہ غور طلب نقطہ ہے




ہفتہ، 15 مارچ، 2014

سب یہیں کے چھل ہیں


زاہد آنکھ بند کر کے من کی کٹیا میں بھنبھیری الاپتا ہے، عابد تقوے کے پٹے آنکھوں پر باندھ کر رشد کے صحیفے سناتا ہے، مگر پیر کامل صرف اک "ھو" کے صدقے سارے راستے  عشاق کے طے کروا دیتا ہے-
یاد رکھنے کی بات ہے کہ، بس پیر کامل کے در سے اصحاب کھف کے کتے جیسی خو ہو بشر میں تو بات بنے ورنہ خالی نلی میں فقط پھونک بھی جا سکتی ،سیپ کہ مانند اس میں سے موتی نہیں نکلتے آسمان عشاق کے-
دعا ہونی چاہیئے کہ پیر کامل کی نسبط عطا ہو، باقی سب مایا ہے، فانی ہے- سب یہیں کے چھل ہیں، سب یہیں رہ جانے ہیں



میں بس راہ دا



میں راہ دا کوڑا ووڑا ، میرا مرشد سوہنا میری ذات وچ وسدا
ہور میں مانگا کی؟؟؟؟؟
میں وچ جدوں اس دا ویڑا،تد 
میں کیوں روواں بوہے باڑ کے دس،
اے ہور گلاں ون تیرے وس دی نئیں، ہن
میں کیڑے پاسے ویکھاں دسیو!
جدوں نظراں وچ نہ آوے او،
بس ہک گل میرے مرشد دی سوہنڑی وے،
جدوں آوے آکھے وچ مسیتی کہ، مینڈھا 
زار کملیا کتھے رہ گیا پاسے،
میں بس راہ دا کوڑا ووڑا،میرا مرشد سوہنا میری ذات وچ وسدا
ہور میں مانگا کی؟؟؟؟؟




جمعہ، 14 مارچ، 2014

"تو" کی بھٹی

ہم میں سے اکثر بس طلب ہی طلب کے مردار خور  گدھ ہیں جو طلب کی رسوئی میں مدھانی چلاتے رہتے ہیں چاہے ظرف کی مٹکی میں دودھ کے بجائے پانی ہو اور عمل کی جگہ صرف آبلے نما ہوں-
بات تبھی بنتی  ہے کہ ہم اغراض کی جھولی کو اچھال دیں اور تہی دامن ہو کر صرف رخ ادھر رکھتے ہوئے اپنے آپ کو سپرد کر دیں- اپنی " میں" کو تیاگ دیں اور "تو" کی بھٹی میں جھونک دیں - جہاں ذکر محبوب کے علاوہ کوئی عبادت کویئ ذکر نہ ہو- اعمال کو اتنا عاضز کر دیں کہ خود  کی طلب سے بھی آذاد ہو کر ہر بات سے "نہی" ہو جائیں، پھر وقت کے دھارے پر خود کو سپرد کر دیں اور نقطہ وفا پر نظر دھرتے رہیں تو گر آپ نسبت والے ہوئے اور کسی کا کرم شامل حال رہا تو تب آپکو رفیق عطا ہو گا-
یہ رفیق کا عطا ہونا کوئی خود کی خوبی نہیں ہوتی بلکہ یہ معملات بروز وعدہ الست کے دن مقرر ہو چکے ہوتے بس انکا وقت کب کیسے ہوتا یہ علم ربا جی اور اس راستے کے رھبر و رارہور کو ہوتا-
بس ہمکو دعا یہ مانگنی چائیے کہ ھمارا کاسہ طلب خالی ہو، اغراض سے مبرا ہو اور ہم سے ہمارا رہبر اور مالک کل راضی 
برضا ہو- آمین


غرض کا پیار


غرض کا پیار تو دنیا کی عام لڑکی نہیں چاہتی تو بھلا ربا جی کیسے خودغرض اور بے غرض میں مماثلت رکھیں گے- ہم کو ؑعبادات، اعمال الغرض عبادات بھی بے غرض ہو کر کرنی ہو گی تب کہیں شائید بات بنے ورنہ خالی برتن تو بہت شور کرتے اب ان سے کسی کو کیا غرض ہوتا ہے۔ 


کسی کو برا نہی کہنا چاہئیے بلکہ


دوستو
،بزرگ کہتے ہیں کہ کسی کو برا نہی کہنا چاہئیے بلکہ اس عمل کو برا کہو جو کوئی کر رہا ہوتا ہے، کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ جو ابھی برے کا مرتکب ہو رہا ہے وہ، کس لمحے کونسا ایسا عمل کر لے کہ جس سے اسکے مراتب پتقی و پرہیزگاروں میں ہو جائے- ہمارے سامنے ہمارے نور مبین پاک(ﷺ) کی مطہر پاک ذندگی کی امثال موجود ہیں- 


زندگی کی حقیقت


زندگی کی حقیقت

کسی بھی چیز کی حقیقت جاننے کے لئے اس کا سامنا کرنا ضروری ہوتا ہے اور زندگی کی حقیقت زندہ لوگ بہتر انداز میں جان سکتے ہین۔ "زندہ لوگوں سے مراد باضمیر اور باشعور لوگ ہین۔ زندگی کا اصل چہرہ جتنا خوبصورت ہے، اتنا ہی بدصورت بھی۔ شاید ہماری زندگی میں خوشی اور غم کی وجہ بھی یہی ہے۔ کہتے ہین کہ زندگی ایک امتحان ہے مگر نہیں۔۔۔ زندگی بذات خود ہر لمحہ امتحان لیتی ہے۔ کبھی کسی کمزور لمحے میں، جب ہمارے قدم بہک جائیں یا جب ہماری انا ہمیں اکڑ کر چلنے پر مجبور کردے۔
حقیقت ہمیشہ تلخ ہی نہیں، شیریں بھی ہوتی ہے مگر یہ بھی زندگی کی ایک اور حقیقت ہے کہ کامیاب زندگی گزارنا ایک مشکل اور تکلیف دہ مرحلہ ہے کیونکہ جو شخص کامیاب زندگی گزار رہا ہوتا ہے، اس نے زندگی کا تلخ دور دیکھا ہوتا ہے۔ زندگی کی ایک اور حقیقت اس کا یکساں نہ ہونا ہے۔ کبھی اچھے دن، کبھی برے دن۔ جو اس کی مستقل مزاجی کے نہ ہونے کا ثبوت ہیں۔ شاید زندگی کی سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ آپ دوسروں کی دعائیں لیکر اور دوسروں کو معاف کرکے زندگی کو آسان بنا سکتے ہیں۔


جمعرات، 13 مارچ، 2014

رحمتوں کی طرف لؤ لگا لو


ماضی کو ویسے ہی پرے پھینکو جیسے انسان نہاتے ہوئے میل کچیل اتارتا ہے- سیانے کہتے ہیں کہ جو ماضی میں ڈوئی چلاتا رہتا ہے، اپنی خطاؤں کی لکیروں میں گم رہتا ہے تو ایسے شخص نے اپنی منزل کھوٹی کر دی ہوتی ہے ،اسے مالک پر بھوسہ نہیں ہوتا وہ شرک کا قصور وار ٹھیرتا ہے- دیکھو دوست، جو گزر گیا اسے خواب سمجھ کر بھول جاؤ جب جب ستائے تب تب رحمتوں کی طرف لؤ لگا لو- ایک آسان نسخہ بتاتا ہوں، جب جب دکھوں کا نفسانی جن سامنے آئے ،عصاب پر ہاوی ہونا چاہے،اسی لمحے اپنے سے نیچے والے کا ہاتھ تھام لو نیکی کی نیکی اور مدد کی مدد کسی کی-



ایسے شیر روح انساں


یہ جو ھم چیختے چلاتے ہیں ناں ؟ کاہے کو ایسا کرتے؟ کیا مسسب الاسباب کو کمزور گردان کر شرک کی انتہا کر تے ہیں یا خود کو ما حاصل اسباب کا فرعوں کہنا چاہتے؟
بھائی دونوں صورتوں میں خاموشی سب سے بڑا ،محرب اور خوش کار ہے، نہ صرف ربا جی کے سامنے بلکہ ایسا کرنے سے انسان مقام انانیت کے درجوں کی طرف گامزن ہو جاتا ہے اور،
ذات میں ٹھیراؤ کے ساتھ ساتھ مرکز پر پہنچنے کی لگن بیدار ہوتی ہے- اور یہی وہ کلیئہ ہے جسکی چابی فقراء کے پاس ہوتی ہے اور جب وہ کسی ایسے شیر روح انساں کو دیکھ لیتے وہ چپکے سے اس کٹیا میں دھکیل دیتے 
ہیں-


جمعہ، 7 مارچ، 2014

قلب کی آئینہ داری


قلب کی آئینہ داری کیا ہوتی ہے؟ تمہید تو طولانی ہے، ابھی صرف اتنا سمجھ لیجیئیے کہ؛
" بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا !
بات کرتے کہ میں لب تشنئہ تقریر بھی تھا "


عشق کے مئہ کی طلب



جب بات کی جاتی ہے ،وجدان کی عشق کی تب ایک ہی بات ناکس عقل میں جا گزیں ہوتی ہے کہ؛
بے حجابانہ در آ از در کاشانہ ما
( اے نور مجلی، ہمارے گھر کے دروازے سے بے حجاب آ )

مگر بھائی! یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ عشق کی بساط پر قدم تب دھرئیے جب آپکے پاس مضبوط کھونٹا ہو، آپکا سالک "ماسٹر" آپکی رہنمائی اور بے ادبی کی گزارشوں سے دھیرے دھیرے گزار سکے، آپکی روح کی تولید سے لے کر شعور کی تولید تک رہنما ہو ، سالک ہو ،کامل ہو تب تو یہ منزل بمشکل آسان گزر ہی جاتی وگر نہ تو بے ادب اسی میں جل کر بھسم ہو جاتے-
بھائی! یاد رکھیئے اگر ادب کا پاس نہیں تو کبھی بھول کر بھی عشق کے مئہ کی طلب نہ کرنا ورنہ نہ ادھر کہ رہ 
پاتے نہ "محبوب (ﷺ)کے نعلیں پاک کی دھول عطا ہوتی ہے


محرموں کے راز و نیاز کی باتیں


ساتھیو! پہلے عشق اور محبت کے فرق کو سمجھیں۔ محبت مادئیت کی طرف لے کر جاتی ہے ، جبکہ عشق فنا کے راہ کی کنجی ہے۔ جس نے مادہ کو مقصد بنا لیا وہ محبتوں کے سیلابوں میں گم رہتا ہے، جبکہ عشق کا روگی چاہے وہ کسی بھی صنف سے ہو اسکی جلا بس محبوب کا حب پانا بھی نہیں ہوتا، وہاں طلب کا کاسہ کبھی کا لیلی نے لے کر توڑدیا ہوتا ہے، نہ وہاں ز طلب ہوتی ہے نہ گماں نی جستجو، وہاں مراتب عشق ہوتے اور محرموں کے راز و نیاز کی باتیں جو حب و محبوب کے درمیاں حجاب در حجاب ہوتی ہیں


بدھ، 5 مارچ، 2014

وجدان عطا ہو

چرخہ کا کام کاتنا ہے ، چاہے گھڑی رخ چلاؤ ،چاہے الٹا۔۔۔۔ مگر بات تبھی بنتی جب چرخہ کی کات میں روئی سہی رخ دھری ہو------بس پھر میں و تو کا فرق ختم ہو جاتا----وجدان عطا ہوتا----بس رخ کی سب بات ہے-