عام باتیں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
عام باتیں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 9 جولائی، 2014

داستان عشاق وصل

ہم ذات میں خود کو مدفن کر کے اکثر تاج محل کی ان غلام گردشوں میں شوریدہ شوریدہ گھومتے ہیں، جہاں کبھی نور النساء اور پھر کئی داستان عشاق وصل، پرندوں کی بیٹ کے تلے گم ہو جاتی ہیں- جیسے کوئی ذندہ عشق سیمنٹ گارے کے چوکور بلاکس کے پیچھے ذندہ چنوا دیا جاتا ہے اور نام لگتا ہے ذات پات، اونچ نیچ کا----------چلو وہ زمانہ تو ابتدائے اسلام کا تھا،مروجہ افلاسی اومر کا تھا؛ مگر آج کیوں کسی کی دھانی چنریا کو، ہرن آنکھوں کو،سرسراتی مدھوش سانسوں کو پابنس سلاسل کر دیا جاتا ہے، جبکہ ہمارا تو منشور بھی اسلامی، آفاقی گفتار بھی مذہبی اور ایمان کے علمبردار بھی ہم؛ تو کیوں رشتوں پہ لید مل دی جاتی ذات پات کی اور افکار مسلماناں ہوتے ہوئے کیوں چن دیا جاتا خوابوں کو ذندان میں بے وجہ-------آخر کب جاگے گا انسان، کیا ہم زمانہ جہل کی طرف پھر چل پڑے  ہیں؟،کیا پھر کسی "نور" کے پرتو کا گمان ہے ہمیں؟---- جاگ انسان جاگ کہ یہی وقت ماحاصل ہے مسلمان ہونے کے فن عشق میں


فرض کیجیے


فرض کیجیے کہ آج رات آپ کو اپنی بیگم کے ساتھ کسی شادی میں جانا ہے۔ آپ دونوں بینک جاتے ہیں اور بیگم کے پہننے کے لیے ساری جیولری نکلوا کر گھر لے آتے ہیں۔ راستے بھر میں آپ کسی چور راہزن سے ڈرتے رہتے ہیں ۔ یہی حال شادی میں جاتے اور آتے وقت رہتا ہے مگر کچھ نہیں ہوتا۔ آپ دونوں اطمینان اور بے فکری سے سوجاتے ہیں ۔ صبح اٹھنے پر پتہ چلتا ہے کہ چور رات میں اور خاموشی سے آپ کے گھر سے سارا زیور چرا کر لے گئے ہیں۔ آپ تھانے کے چکر لگاتے ہیں ۔ پولیس کی منت کرتے ہیں کہ آپ کا کل سرمایہ لٹ چکا ہے، مگر بے سود۔
فرض کیجیے آپ ایک نوجوان بچے کے باپ ہیں جس سے آپ کو بڑ ی امیدیں وابستہ ہیں ۔ وہ روز کالج جاتا ہے۔ محنت سے پڑھتا ہے۔ آپ خوش اورمطمئن رہتے ہیں۔ ایک روز آپ کو پتہ چلتا ہے کہ کالج سے واپسی پر اسے ایک بس نے ٹکر ماردی۔ آپ کے پیروں تلے سے زمین نکل جاتی ہے۔ آپ دیوانہ وار دفتر سے ہسپتال بھاگتے ہیں ۔ پھٹی آنکھوں سے اپنی بیوی کو دیکھتے ہیں جو آپریشن تھیٹر کے باہر بیٹھی بلک بلک کر رورہی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر آپ کو آ کر بتاتا ہے کہ ہم کوشش کر رہے ہیں ۔ آپ ڈاکٹر کے سامنے ہاتھ جوڑ دیتے ہیں کہ میرے بچے کو بچالیجیے ۔
فرض کیجیے کہ چند دن سے آپ کی طبعیت کچھ خراب ہے ۔ مگر ایسی نہیں کہ چھٹی لے کر گھر بیٹھ جائیں ۔ مگر آپ مکمل نارمل بھی نہیں ۔آپ اپنے مسائل لے کر فیملی ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں ۔ وہ کچھ دوائیں دیتا ہے ۔ کچھ ٹیسٹ لکھتا ہے ۔ آپ دوا کھاتے ہیں ۔ فائدہ ہوجاتا ہے ۔ مگر احتیاطاً آپ ٹیسٹ بھی کرالیتے ہیں ۔ ٹیسٹ کی رپورٹ آنے پر آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو کینسر کا جان لیوا مرض لاحق ہے ۔آپ کے گھر میں کہرام مچ جاتا ہے ۔ پھر علاج شروع ہوتا ہے ۔ لاکھوں روپے برباد کر کے اور بے پناہ تکلیف اٹھا کر بھی آپ ہسپتال کے بستر پر پڑے موت کی آہٹ سننے پر مجبور ہیں۔آپ کے بچے تڑپ رہے ہیں ۔ بیوی کے چہرے پر تاریکی چھائی ہوئی ہے ۔ آپ کی دنیا بھی اندھیر ہو چکی ہے ۔
اطمینان رکھیے ۔ ہم صرف فرض کر رہے ہیں ۔ ابھی تک ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔
آپ نے جیولری باحفاظت بینک لاکز میں رکھوادی۔ آپ کا بچہ روز پڑھنے جاتا ہے اور خیر سے آ جاتا ہے ۔ آپ کی طبیعت گرچہ ناساز ہوئی مگر معمولی سامسئلہ تھا جو دوا سے حل ہو گیا۔ اس دنیا میں اس جیسی ہزار چیزیں فرض کی جا سکتی ہے ۔ مگر ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا ۔آپ کو کسی کی منت نہیں کرنی پڑتی۔ کسی کے آگے گڑگڑانا نہیں پڑتا۔آپ کی بیوی بلک بلک کر نہیں روتی۔ آپ کے بچے تڑپتے نہیں ۔ آپ کا مال محفوظ ہے ۔ عزت کو بٹہ نہیں لگا۔ جان عافیت میں ہے ۔
چلیے دو لمحے کے لیے ایک دفعہ پھر فرض کر لیجیے کہ یہ سب کچھ ہو چکا ہے ۔ آپ کا مال لٹ گیا ہے ۔ آپ کی جوان بیٹی کی آبرو پر حرف آ گیا ہے ۔ آپ کا بچہ آپریشن تھیٹرمیں ہے ۔ آپ خود ہسپتال میں پڑے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر موت کا انتظار کر رہے ہیں ۔ کرب کے ان لمحوں کا تصور کیجیے ۔سوچیے کہ آپ کو کہاں کہاں بھاگنا اور کن کن لوگوں کے آگے گڑگڑانا پڑ رہا ہے ۔
اور پھر اس ہستی کا تصور کیجیے جو عافیت کا قلعہ بن کر آپ کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے ۔ وہ آپ سے کچھ نہیں مانگ رہا۔ مگر آپ اس کے قدموں پر احسان مندی کے جذبے سے گرجائیے کہ اس نے آپ کے مال کو بچالیا۔ وہ اپنے احسانوں پر اپنی تعریف نہیں سننا چاہتا۔ مگر آپ بہتے ہوئی آنکھوں اور لزرتے ہوتے ہونٹوں سے اس کی تعریف کیجیے کہ آپ کی اولاد محفوظ ہے۔
وہ آپ کے ہر گناہ کو دیکھ کر بھی انجان بن رہا ہے اور عافیت ، نعمت اور زندگی نہیں چھین رہا۔ آپ بھی عزم کر لیں کہ اب کبھی اس کو ناراض نہیں کریں گے ۔ ابھی وقت ہے ۔ جس نے دوسرے کے سامنے جھکنے نہیں دیا۔ اس کے سامنے جھک جائیں ۔ جس نے دوسروں کے سامنے تڑ پنے سے بچالیا اس کے سامنے رولیں ۔ جس نے دوسرے کا احسان اٹھانے سے بچالیا اس کی بندگی اختیار کر لیں


آج مجھے معلوم ہوا


آج مجھے معلوم ہوا کہ ہم خود کی ذات میں کتنا گمنام سے ہیں، کبھی کبھی آئینہ بھی ہم سے پوچھ بیٹھتا ہے، ارے بابا تم کون ہو؟ اور تب ہمکو اپنے سراپے پہ ایک نظر ڈال لینی چاہئے، ہو سکتا ہے وہ ایک لمحہ خود کو بدلنے کا ہو حالات کے ساتھ

اگر تو ملتا تو کیسا ہوتا !


بہت مدت کے بعد کل جب
کتابِ ماضی کو میں نے کھولا
بہت سے چہرے نظر سے گزرے
بہت سے ناموں پہ دل پسیجا
اک ایسا صفحہ بھی اس میں آیا
لکھا ہوا تھا جو آنسوؤں سے
کہ جس کا عنوان "ہمسفر" تھا
کچھ اور آنسو پھر اس پہ ٹپکے
پھر اس سے آگے میں پڑھ نہ پایا
کتابِ ماضی کو بند کر کے
ترے خیالوں میں کھو گیا میں
اگر تو ملتا تو کیسا ہوتا !
انہی خیالوں میں سو گیا میں

سرِ بزم دکھلاویں ہیں بسکہ شوخی


مری حسرتیں دل میں گھبراتیاں ہیں
نکلنے کی راہیں نہیں پاتیاں ہیں

تری مست آنکھوں کی یہ پتلیاں تو
تماشا قیامت کا دکھلاتیاں ہیں

اُدھر بدلیاں ہیں، اِدھر میری آنکھیں
وہ پانی تو یہ اشک برساتیاں ہیں

صلاح اپنی آنکھوں کی اے دل سنیں کیا
کوئی کام کی بات بتلاتیاں ہیں

خدارا بتا دیں تو ٹک ہم کو سانسیں
کہاں آتیاں ہیں، کہاں جاتیاں ہیں

ارے یاس یہ حسرتیں ہیں جو میری
ترا نام سن سن کے گھبراتیاں ہیں

بنیں جو کہ تیرِ بلا کا نشانہ
فقط اہلِ دل ہی کی وہ چھاتیاں ہیں

سرِ بزم دکھلاویں ہیں بسکہ شوخی
وہ آنکھیں جو خلوت میں شرماتیاں ہیں

امیدیں جو میہمان ہیں میرے دل میں
لہو پیتیاں ہیں، جگر کھاتیاں ہیں

سُنا ہوں کہ اکثر نگاہیں تمہاری
مرے قتل کے بعد پچھتاتیاں ہیں

مُوا جائے زار ہے جن کے غم میں
وہ شکلیں نگاہوں میں کیوں آتیاں ہیں



محترم میر سوز کا کلام


محترم میر سوز کا کلام:- بندہ ناچیز کا پسندیدہ

اگر میں جانتا ہے عشق میں دھڑکا جدائی کا
تو جیتے جی نہ لیتا نام ہرگز آشنائی کا

جو عاشق صاف ہیں دل سے انہیں کو قتل کرتے ہیں
بڑا چرچا ہے معشوقوں میں عاشق آزمائی کا

کروں اک پل میں برہم کارخانے کو محبت کے
اگر عالم میں شہرہ دوں تمہاری بے وفائی کا

جفا یا مہر جو چاہے سو کر لے اپنے بندوں پر
مجھے خطرہ نہیں ہرگز برائی یا بھلائی کا

نہ پہنچا آہ و نالہ گوش تک اس کے کبھو اپنا
بیاں ہم کیا کریں طالع کی اپنے نارسائی کا

خدایا کس کے ہم بندے کہاویں سخت مشکل ہے
رکھے ہے ہر صنم اس دہر میں دعویٰ خدائی کا

خدا کی بندگی کا سوز ہے دعوا تو خلقت کو
ولے دیکھا جسے بندہ ہے اپنی خود نمائی کا

آپ تو جا کر ملی ہے عرش پروازوں میں روح


وصل کی حسرت نگاہوں سے مری کیا پا گئی
جو تری تصویر مجھ کو دیکھ کر شرما گئی

چہرهٔ پرنور کی اس کے جھلک دکھلا گئی
چاندنی ہم کو شبِ ہجراں میں کیا تڑپا گئی

قتلِ عاشق سے کجی ابرو میں اُس کی آ گئی
کیا نہ تھی یہ تیغ فولادی جو یوں بل کھا گئی

ہو گیا قطعِ تعلق سب سے وحشت میں مرا
بے خودی پاؤں کی میری بیڑیاں کٹوا گئی

جان آنکھوں سے نہ نکلی انتظارِ یار میں
موت بیٹھے بیٹھے بالیں پر مرے اکتا گئی

لگ گئے جیتے ہی جی ہم تو کنارے گور کے
ناتوانی تا سرِ منزل ہمیں پہنچا گئی

برگِ گل لے کر صبا تجھ کو یہاں آنا نہ تھا
تو اسیرانِ قفس کو اور بھی بھڑکا گئی

ابتدا ہی میں دکھائی عشق نے کیا انتہا
دل کے لگتے ہی جو منہ پر مردنی سی چھا گئی

جل نہ جائے سبزۂ تربت ہمارا کس طرح
جو گھٹا آئی وہ انگاروں کا مِنہ برسا گئی

تیشہ مارا سر پہ جب فرہاد نے نکلی صدا
جان کا کچھ غم نہیں محنت یہ سب بے جا گئی

آپ تو جا کر ملی ہے عرش پروازوں میں روح
اور مجھے رگ ہائے تن کے دام میں الجھا گئی

کون دریائے محبت سے اتر سکتا ہے پار
کشتیِ فرہاد آخر کوہ سے ٹکرا گئی

کیونکہ واشد کی توقع ہو دلِ پژمردہ کو
وہ کلی گل کی کہیں کھلتی ہے جو کمھلا گئی

شمع سے دیتا ہے نسبت تو جو روئے یار کو
کیا تری آنکھوں میں اے پروانہ چربی چھا گئی

عاشقِ کامل ہے زار تجھ سا ہرجائی نہیں
پھر نہیں پھرتی جدھر اُس کی طبیعت آ گئی


سبزیاں اور پھلوں


دنیا میں پائے جانے والی سبزیاں اور پھلوں کی ایک تہائی سے زیادہ اقسام کی افزائش ایک عمل کے زریعے ہوتی ھے جسے پولی نیشن کہا جاتا ھے۔ آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کے ایک پھول سے نر پولنز جب دوسرے پھول کے مادہ پولنز پر گرتے ہیں تو افزائش کا عمل ہوتا ھے۔ نر اور مادہ پولنز کے ملاپ کاکام قدرت مکھیوں کے زریعے لیتی ھے جب وہ مکھیاں کسی پھول پر بیٹھتی ہیں تو اس کے نر پولنز ان کے ساتھ چپک جاتے ہیں اور جب وہی مکھی کسی دوسرے پھول پر بیٹھتی ہیں تو وہ نر پولنز اس پر گر جاتے ہیں اور یوں پولی نیشن مکمل ہوجاتی ھے۔ بدقسمتی سے دنیا میں مکھیوں کی تعداد میں دن بدن کمی ہوتی جارہی ھے جس سے پھلوں سبزیوں کی افزائش بری طرح متاثر ہورھی ھے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف امریکہ میں سالانہ پندرہ ارب ڈالرز کا نقصان صرف مکھیوں کی کم ہوتی ہوئی تعداد کی وجہ سے ہو رھا ھے جس سے ایک تو خوراک کی قلت ہورہی ھے اور دوسرے اس کی قیمت میں بھی اضافہ ہورھا ھے۔
اس ایشو کو دیکھتے ہوئے امریکی یونیورسٹی ہارورڈ نے ایک پراجیکٹ پر کام شروع کیا ھے جس کے تحت وہ روبوٹ مکھیاں بنائیں گے جو نہایت کم قیمت ہونگی اور پولی نیشن کے عمل کو بخوبی سرانجام دے سکیں گی۔ یہ پراجیکٹ بظاہر بہت چیلنجنگ ھے لیکن سائنسدان پرامید ہیں کہ وہ یہ ٹاسک اگلے چند سالوں میں مکمل کرلیں گے۔ باباکوڈا کے اس پیج پر کچھ عرصہ پہلے ایک پوسٹ شئیر کی تھی جس میں روبوٹ مکھیوں کے زریعے کھاد پہنچانے کی ٹیکنالوجی کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ اسی طرح اب روبوٹ مکھیاں بھی بنیں گی جو کہ پھلوں سبزیوں کی افزائش کو بڑھانے میں مدد دیں گی اور امید ھے کہ اس سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔
یہ تو تھا ایک مختصر احوال کہ ترقی یافتہ ممالک میں کیا ہو رھا ھے۔ آجائیں اپنے پاکستان، جہاں بے چارے وزیرستان کے بے گھر ہونے والے لاکھوں لوگوں کو آج سموسے تقسیم کرنا بھی ناممکن ہوگیا تھا۔
ایک طرف ترقی یافتہ ممالک روبوٹ مکھیاں بنا کر پولنز کی ڈسٹری بیوشن کا پلان بنا رھے ہیں اور دوسری طرف ہم انسانوں میں سموسے بھی تقسیم نہیں کر پارھے۔
اپنی اپنی ترجیحات اور اپنے اپنے شوق!!!