اپنی بساط لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اپنی بساط لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 21 جون، 2014

آج سوچا ہے----

----- آج سوچا ہے خیالوں میں بلا کر اُنکو، پیار کے نام پہ تھوڑی سی شکائیت کر لیں


بزرگوں کا دامن



بزرگوں کا دامن
بچپن میں شیخ سعدی اپنے والد کی انگلی پکڑے ہوئے کسی میلے میں جارہے تھے۔ راستے میں کسی جگہ بندر کا کھیل دیکھنے میں ایسے لگے کہ والد کی انگلی چھوٹ گئی۔ والد اپنے دوستوں کے ساتھ آگے نکل گئے اور سعدی تماشا دیکھتے رہے۔ کھیل ختم ہوا تو والد کو سامنے نہ پاکر بے اختیار رونے لگے۔ آخر اللہ اللہ کر کے والد بھی انھیں ڈھونڈتے ہوئے آنکلے۔ انھوں نے سعدی کو روتا دیکھ کر ان کے سر پر ہلکا سا چپت مارا اور کہا: "نادان بچے! وہ بے وقوف جو بزرگوں کا دامن چھوڑ دیتے ہیں، اسی طرح روتے ہیں۔"
سعدی کہتے ہیں کہ میں نے سوچا تو دنیا کو ایسا ہی پایا، ایک میلے کی طرح۔ آدمی اس میلے میں مجھ جیسے نادان بچوں کی طرح ان بزرگوں کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے، جو اچھے اخلاق سکھاتے اور دین کی باتیں بتاتے ہیں، تب اچانک اسے دھیان آتا ہے کہ زندگی غفلت میں گزر گئی، پھر روتا اور پچھتاتا ہے۔


تیری مٹی ذرا جدا ہے


اب میں باتیں کرتا ہوں، مگر خود سے، کیونکہ بہت دن ہو چلے تھے مجھے مجھ سے ملے ہوئے- اب خود کی باتیں سنتا ہوں اور خود کی تصحیح کرتا ہوں-مجھے خود کو بہت سنوارنا ہے، مجھے خود کو بہت نکھارناہے- جھوٹی دنیا کے بودے رشتے اب میرے پاؤں کے گفتار نہ بنیں گے، میں اب در در کسی رشتے کا امیدوار نہ بنوں گا
صدیوں کا مسافر ہوں، کیسے کسی کو اسیر کروں، اپنی محبتوں کی بیٹھک میں کیسے کسی کو مقید کروں-ہر ذرہ مجھ سے کہتا ہے ،تم نے افلاک کا سفر کرنا ہے،کسی طلسم حسینہ نامئہ بر کی زلفوں سے تجھے کیا غرض، تیرا لبادہ بوسیدہ ہی طے ہوا فلق پہ،تیرے حواس کی خو میں فقط بس آبیاری ہے، نہ منزل تیری یہاں ٹھیری نہ تھجے یہاں دوام ہے، فقط تو قاصد نامئہ بر کے حکم کا میراث ہے-
تربیت میری محل کے جھروکوں میں ایسی سنگلاخ رہی، نہ ممتا کی چھاؤں محسوس کی نہ بپتا کا سائیباں نصیب ہوا، جوانی کی دھلیز پر ایک نوشہ پری پر حجاب عطا ہوئی، پر پھر وہی افتاد جونمردی اور تائید حر مندی وہ بھی مجھ سے جدا کی، نہ رہی ممتا کی جھلملاتی نرم گود نہ پائی محبتوں کی نرگسی مسکاں-
حکم ہوا ،تھجے بنایا گیا ہے فقط بجا آوری کیلیئے، تیری مٹی ذرا جدا ہے، تجھے مانگ کا کوئی حق نہیں تیری شرست میں مں فقط "ھاں" ہے- تو مٹی کا فقط باسی ہے تجھے رہنا اب خاص ہے، اس پاسبان حرم ؤطن کی آنچ کے آنچل کی حرمت کے دھیرج کو تیری مٹی کو گوندھا گیا تھا وہاں، تو چاہ کہ بھی کسی طور سے نہ لے سکے کا مئہ نفس کا سرور،چل اٹھ کے تیرے نام کا طبل اب بج چکا، تجھے خود سے بڑھ کر کود سے بڑے ہیں کام کرنے بس اسی کو مقصد سمجھ تو لے بس اسی کو مربوط تو کر لے-
ہاں! یہ تیرا قلم نہیں ہے ،یہ بات تو تو کہیں اور طے ہے-------

خادم امت مسلمہ ، 
میجر زرخھاف خان آفریدی




بدھ، 28 مئی، 2014

ماں، تم تو کہتی تھی


جب میری نانی مر گئی تو ماں اپنے اکلوتے چھوٹے بھائی کو اپنے گھر لے آئی۔ میرے نانا پہلے وفات پا چکے تھے، ماں کی شادی سے بھی بہت پہلے۔ یہی وجہ تھی کہ ماں اسے گھر لے آئی۔
کہتے ہیں میرا ماموں خصلت اور عادات و اطوار میں مثالی آدمی تھا، بے حد نیک اور بے ضرر، اتنا بے ضرر کہ سوئے ہوئے آدمی کو جگانا بھی اس کے نزدیک معیوب تھا۔ جیسا کہ سنتے آئے ہیں کہ نیک آدمیوں کی زندگی مختصر ہوتی ہے۔ میرے ماموں کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ دو دن بخار ہوا اور تیسرے دن چل بسا۔
ماں رو رو کر بے حال ہو گئی۔ دوسرے دن بھائی کی قبر پر گئی تو شدت غم سے بے ہوش ہو کر گر گئی۔ ہماری دوسری رشتہ دار عورتیں یہ صورت حال دیکھ کر گھبرا گئیں اور انھوں نے چیخ و پکار شروع کر دی۔ خود میں بھی ان دنوں چھوٹی سی تھی، چنانچہ دہاڑیں مار کر رونے لگی۔
قبرستان کے چوکیدار شوضل کاکا نے شور سنا تو دوڑا آیا۔ اس کے ہاتھ میں ٹھنڈے پانی کا کٹورا تھا۔ ہماری ایک رشتہ دار عورت نے پورا کٹورا ماں پر انڈیل دیا۔ ماں کے کپڑے بھیگ گئے۔ وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔ سفید برقع جسے وہ آدھا الٹا چکی تھی ،بکھرا پڑا تھا۔ لاش کی طرح زرد رنگ اور چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے، ماں کی یہ حالت دیکھ کر میں دیوانوں کی طرح اِدھر اُدھر دوڑنے اور چیخ چیخ کر رونے لگی۔ مجھے ایسا لگا تھا کہ ماں بھی ماموں کی طرح مر چکی اور سفید کفن میں لپٹی ہوئی ہے۔ آج بھی ان لمحوں کی یاد آئے، تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور میری روح کانپ جاتی ہے۔
دو تین روز بعد جب ماں دوبارہ ماموں کی قبر پر گئی تو میرے اور ہماری نوکرانی دلاجان بی بی کے علاوہ کوئی ساتھ نہ تھا۔ اچانک ماں کی حالت پھر بگڑ گئی اور وہ بے ہوش ہوگئی۔ قبرستان کا چوکیدار شوضل کاکا دوبارہ ہماری مدد کو پہنچا اور دلاجان بی بی سے کہنے لگا’’گھر والوں کو کہہ دو، بیگم صاحبہ کو قبرستان نہ آنے دیں۔ خواہ مخواہ روگ لگ جائے گا۔ اگر بہت ہی مجبوری ہے، صبر نہ آئے، تو چند روز ناغہ کرنے کے بعد آئے۔ آہستہ آہستہ غم ہلکا ہو جائے گا۔‘‘
ماں ہوش میں آئی تو دلاجان بی بی نے شوضل کاکا کی بات دہرائی۔ ماں رونے لگی، بولی:
’’اکلوتے بھائی کا غم بھی کبھی کم ہوگا؟ ایسی جوانمردگی کی موت، کلیجا کٹ کٹ جاتا ہے۔ بے چارہ دلہن کے چہرے کا گھونگھٹ بھی نہ اٹھا سکا۔ ہائے موت کو بھی ترس نہ آیا!‘‘ ماں پھر رونے لگی۔ ’’باپ کا خون اور ماں کی آخری نشانی۔ موت کے بعد بھی ماں کے کیا کیا ارمان تھے، پختہ قبر بنانے کی آرزو اور اس پر سرخ سبز جھنڈے لہرانے کی حسرت، لیکن خدا جانے ایسا ہواکیوں نہیں !‘‘
اب کوئی دن ایسا نہ جاتا کہ ماں قبرستان نہیں جاتی۔ بھائی کی قبر پر ہاتھ رکھ کر زاروقطار روتی۔ میں حیران ہوتی کہ آنسوئوں کا یہ رواں دواں کارواں ختم کیوں نہیں ہوتا؟ یہ ڈھیروں پانی کہاں سے آتا ہے۔ وہ پھر قرآن مجید کھولتی، پڑھتی اور ہچکیاں لے لے کر تلاوت کرتی۔ آنسو تھے کہ پھر بھی نہ تھمتے۔ لیکن احتیاط کرتی کہ بہتے آنسو قرآن کے صفحات کے بجائے دائیں بائیں گریں۔
وہ پھر پنج سورہ لے کر جانے لگی۔ اب میں اور ماں ہی قبرستان جاتی تھیں۔ پھر آہستہ آہستہ قبر پر جانا کم ہونے لگا۔ جمعرات کے جمعرات اور پھر بتدریج مہینے دو مہینے میں ایک آدھ بار، یوں ایک سال گزر گیا۔ اب شب قدر یا عید آتی تو ماں ماموں کی قبر پر چلی جاتی۔ پھر ایک وقت آیا میں اس سے کہتی’’ماں، ماموں کی قبر پر نہیں جانا؟ اب تو ۲؍ سال بیت گئے ہیں۔‘‘
تب ماں چونکتی، ٹھنڈی آہ بھرتی اور کہتی’’ہاں بیٹی! اس جواں مرگ کو مرے ۲؍ سال ہو گئے۔ زندگی بھی کیا ہے، ۲ ؍ سال آنکھ جھپکتے گزر گئے جیسے کل ہی وہ ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوا تھا۔‘‘
ماں کی آنکھیں ڈبڈبا جاتیں۔ تب مجھے وہ وقت یاد آ جاتا جب ماں قبر پر دہاڑیں مارتے ہوئے بے ہوش ہو جاتی تھی۔ کتنافرق تھا تب میں اور اب میں…!
پھر وہ وقت بھی آگیا کہ ماں نے قبرستان جانا بالکل ہی ترک کر دیا۔ اسے یاد ہی نہ رہتا، فرصت بھی نہ ملتی۔ اگرچہ میں چھوٹی تھی مگر مجھے اب تک یاد ہے کہ اس سال بہت بارشیں ہوئی تھیں۔ شوضل کاکا نے یہ خبر پہنچائی کہ ماموں کی قبر زمین میں دھنس گئی اور تختے ٹوٹ گئے ہیں۔ مجھے اس خبر سے یوں فکر ہوئی کہ کہیں ماں کو پھر دورہ نہ پڑ جائے۔ مگر کچھ بھی نہیں ہوا۔ ماں پر اس خبر نے کوئی اثر نہ کیا۔
میرے بھائی نے کہا ’’ماں تم کہو، تو کسی کو ساتھ لوں اور ماموں کی قبر ٹھیک کر دوں؟‘‘
ماں نے کسی جذبے کے بغیر سرد لہجے میں کہا ’’کیچڑ اور پانی میں کیا اپنے آپ کو دق کرو گے۔ شوضل کاکا سے کہہ دو، مزدور لگا کر ٹھیک کر لے۔‘‘
پھر اچانک ابا کا تبادلہ ہوگیا۔ہم سب عزیزوں، رشتے داروں اور دوستوں سے گلے ملے،دعوتیں ہوئیں۔ لیکن کسی کو یاد نہ رہا کہ ماموں کی قبر پر دو پھول ہی ڈال آئیں۔ یوں تبادلے ہوتے رہے، وقت گزرتا رہا۔ دن مہینوں میں اور مہینے برسوں میں بدلتے گئے۔ ابا کو پنشن مل گئی اور ہم گائوں واپس آگئے۔
میرا خیال تھا، وطن واپس ہوتے ہی ماں فوراً ماموں کی قبر پر جائے گی۔ میں انتظار میں تھی۔ ہفتہ گزر گیا، ۲؍ ہفتے گزر گئے، مہینا گزر گیا، ۲؍ مہینے گزر گئے۔ مگر کسی کو خیال نہ آیا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے ماں سے کہا ’’ماں قبرستان نہیں جائو گی؟‘‘
ماں نے مجھے اس طرح دیکھا جیسے ذہن پر زور ڈال کر کچھ یاد کر رہی ہو۔ پھر بولی’’ہاں چلے جائیں گے نا! مگر ابھی اپنے پرایوں کی دعوتیں ختم نہیں ہوئیں۔ سامان بھی اِدھر اُدھر بکھرا پڑا ہے۔ ذرا سانس لے لیں پھر جائیں گے۔‘‘
لیکن میں نے اصرار کیا ’’نہیں ماں، آج جائیں گے ماموں کی قبر پر۔‘‘
ماں چند لمحے غیرارادی طور پر مجھے دیکھتی رہی اور پھر آخر چل پڑی۔ ہم نے حیرت سے پھیلے قبرستان کو دیکھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب مزید ایک قبر کی گنجائش نہیں۔ رکھ کے درخت بھی تقریباً ختم ہوگئے۔ وہ چھوٹا سا میدان بھی نظر نہیں آ رہا تھا جس میں جنازے کی نماز پڑھی جاتی تھی۔
ماموں کی قبر کے قریب ایک چھوٹا سا درخت تھا، وہ بھی نظر نہیں آیا۔ تلاش کے باوجود ماموں کی قبر شناخت نہ ہو سکی۔ ماں نے اپنا سفید برقع پیچھے کی طرف ڈال لیا تھا جس کے زمین کو چھوتے کناروں سے قبرستان کی سوکھی گھاس اور کانٹے الجھ گئے۔ ماں نے برقع اتار کر ایک طرف رکھ دیا اور بولی’’اب تو بیچارے کی قبر کی ڈھیری بھی نہیں ملتی۔ نام کیا مٹا، نشان بھی مٹ گیا۔ آئو واپس چلیں۔‘‘
ماں واپس ہونے لگی۔ اس کا یہ رویہ مجھے عجیب ہی نہیں برا بھی لگا۔ میری بچپن کی یادیں تازہ ہو گئیں۔ وہ سب کچھ یاد آگیا کہ ماموں کی موت پر ماں کی کیا حالت ہوئی تھی۔ میں نے حیرت سے سوچا ’’یااللہ، یہ وہی عورت ہے جو چند سال پہلے بھائی کی موت پر خون کے آنسو روتی رہی تھی اور کئی بار بے ہوش ہوئی۔ اب اس کا دل پتھر کا ہوچکا ہے۔‘‘
میں نے اس سے کہا ’’ماں، تم تو کہتی تھی، ماموں کی قبر پکی بنوائوں گی!‘‘
’’ہاں بیٹی! لیکن اس سے کیا فرق پڑتا؟ میں سونے کی قبر بھی بنوا دیتی مگر میرے بعد کون تھا کہ اسے یاد رکھتا اور پھر ہمیں بھی ایک دن مٹی ہوجانا ہے۔ نشان تک باقی نہیں رہتا۔‘‘
ماں واپسی کا ارادہ کر رہی تھی، مگر میرا دِل نہیں مانا۔ ماں کو وہیں چھوڑ کر میں چوکیدار کی کوٹھڑی کی طرف چل پڑی۔ سوچ رہی تھی، شوضل بابا زندہ بھی ہوں گے یا نہیں؟ اسی لمحے ایک سفید باریش آدمی کو دیکھا جو ہڈیوں کا چھوٹا سا متحرک ڈھانچہ تھا۔ فوراً خیال آیا کہ یہی شوضل بابا ہوگا؟
قریب پہنچی اور غور سے دیکھا تو وہی تھا۔ پوچھا! ’’بابا! اگر یاد ہو، بہت عرصہ ہوا ایک نوجوان اس قبرستان میں دفن ہوا تھا۔ صبح اس کی بہن قبر پر آتی اور روتے روتے بے ہوش ہو جاتی۔ مجھے یاد ہے، آپ نے اسے آنے سے منع کیا تھا کہ خواہ مخواہ روگ لگ جائے گا۔ مگر اب اس نوجوان کی قبر نہیں ملتی؟‘‘
اس کے بعد میں نے شوضل بابا کو اپنے باپ کا نام بتایا اور یہ بھی کہ وہ میرے ماموں کی قبر تھی۔شوضل بابا نے اوپر سے نیچے دیکھ کر میرا جائزہ لیا، پھر اطمینان سے بولا:
’’بیٹی! یہاں بہت سی مائیں اور بہنیں بھائیوں اور بیٹیوں کی قبروں پر بے ہوش ہوتی رہی ہیں۔ یہ سب قبریں اورمٹی کی ڈھیریاں جو آپ کو نظر آتی ہیں، ان میں دفن پیاروں کے زخمی دلوں کا درد آنسوئوں کی شکل میں بہتا رہا ہے۔ پھر دھیرے دھیرے وقت کے دھاگوں نے ان گہرے زخموں کو رفو کر دیا۔ اشکوں کی جگہ آہوں نے لے لی۔ پھر یہ آہیں بھی وقت کی آندھی اڑا کر لے گئی۔ وہ لوگوں کے دلوں سے اپنے پیاروں کی یادیں بھی سمیٹ کر لے گئی۔ وقت کی یہی آندھی ان قبروں پر بھی گزری جس نے انھیں مٹی کی ڈھیریوں میں تبدیل کردیا۔ پھر ایک وقت آئے گا یہ ڈھیریاں بھی ناپید ہو جائیں گی اور پھر لوگ پیاروں کی قبروں پر ہل چلا دیں گے…‘‘
خدا جانے شوضل بابا اور کیا کچھ کہتا رہا، میں سن نہ سکی کیونکہ ماں بلند آواز سے مجھے بلا رہی تھی’’آئو بیٹی، بہت دیر ہو گئی ہے۔‘‘میں نے بے بسی سے ماں کی طرف دیکھا اور چل پڑی…


منگل، 20 مئی، 2014

کوئی مرد رہا ہی نہیں؟

ہمارے اند حسن بے پیاں موضود ہے، ذرا آنکھ بند تو کرئیے، سب جھرنے، قوظ قزاح اور سمندر کا نیلا نلگوں پانی اور چٹانوں کا بھر بھرا پن، ندیوں کی خمدار اٹھکیلی کرتی چاندی دھاریں سب اندر ہیں---- تبھی تو من کی آنکھ کھلی ہو تو ربا جی کی یہ کائینات حسین نظر آتی ہے ورنہ حسد، کینہ ،بغض عناد ذدہ من صرف منفی توجیہات کے عوامل کریدتا ہے اور پھوڑے کو مزید کرید کرید کر ناسور روح بنا دیتا ہے-
گر یہ سرشت ربا جی کو نہ علم ہوتی تو وہ سب کائینات کو حسن بخچ کر صرف آنکھ بنا دیتا اور سب طرف  راوی چین کی بانسری بجا رہا ہوتا- مگر معملات اسکے مخالف ہیں اور اسی بات کا بار ہا ذکر ربا جی نے قرآن پاک میں کیا ہے کہ،اپنے باطن کی صفائی پر تو جہ دو- حتا فرمایہ کہ ،" صفا ئی نصف ایمان ہے" اور ہم محظ اسے جسمانی اور لباس کی صفائی لے بیٹھتے ہیں-
یہ جسم تو فنا کے درجے پر فائز ہے ، مٹی کو مٹی ہو جانا- تو پھر کاہے کو اتنا اس پر وقت کے ضیاع کا حکم لاگو کر ے کا " ترتیب و مزئین کر نے والی ہستی" ہم پر صفائی اور طہارت کو ہم پر-----
دراصل اندر پاک اور صاف تو نور کت لئیے در کھل گیا اور جب نور اند تو باطن پاک اور جب باطن کی قلعی منعکس ہوتی تو آدم کے ارد گرد حلقئہ نور واجب ہو جاتا ہے- رخ عطا ہو تا ہے- نور حضرت محمد (ﷺ)پاک خیر آمین کے حقدار بنتے اور پھر گر رحمت شامل حال تو راہبر عطا ہوتا ہے، مقصد عطا ہوتا ہے، اور پھر وہ فرد واحد ملت کے لئیے ایک روشن چراغ بن جاتا ہے-
تو خود سوچئیے ساتھئیو ؛ گر اک فرد اتنا فروزاں ہو سکتا کہ، " نور اسموات فلارض" کی شنوائی حاصل کر سکے تو ملت اسلمے ،امت حضرت محمد(ﷺ)پاک خیر کیلیئے جمئیت بندی کی صورت میں کیا کچھ کرم، رحمت،فضل کی پھواریں پوری امت کو جلو رحمت کا احاطہ کئیے ہوئے کیونکر نہ رکھے-
نہ ضنت کی ہوس نہ جہنم کی چنگھاڑ کا کوئی خوف نہ نفس پرستی اور نہ ہی عورت کے جسمانی خطوط کے اتار چڑھاؤ کو حسن کا پیمانہ سمجھ کر نی صرف خود کو احتسب کے لیے مفت میں کھڑا کر دیتے ہیں بلکہ عورت کی معصومیت کو بھی ثلط راہ کا امین بنا دیتے- یاد رکھیئے کوئی عورت ماں کے بطن سے حراطہ، طوائف، رنڈی یا جسم فروش نہیں پیدا ہوتی----اور بلفرض موجود بھی ہو تو ایک مرد جو عرب تا عجم ، یونان تا بلخ کی مسجدوں تک گھوڑوں کی ننگی پیٹھ پر مردوں کو مسخر کرتا ہے کیا اسکی نسل اتنی بودی کمزور ہو گئی کہ وہ ایک عورت کو راہ راست کو امیدوار نہیں بنا سکتا-
گر آپ معتبر مردوں کے پاس جواب "نفی" میں ہے تو باخدا حرم پاک کے مینارے اور مسجد اقضی کے کلس ایک بار پھر ہل جائیں کہ عجب نہیں ہم ایکبار پھر کفر اور جانور وں کے دور جہل میں جا رہے ہیں-
ہم مرد ہی عورت کو ہر منفی صورت کو پیرھن پہنا کر منصف کی  کرسی پر بیٹھ کر جہل کا فتوہ جاری کرتے ہیں- کیا ہم میں کوئی مرد رہا ہی نہیں؟ سوچیئے گا!!!
کیونکی ربا جی کی سندرتا کائینات پکار پکار کر کہتی ہے کہ ،" ہے کوئی جو ربا جی کی بنائی ہوئی اس حسن و دلکشی کی سندرتا کو کھوجے، سمجھے ،اپنائے وار بسا لے من میں- کون ہے جو ان دلکشیوں پر غور کرے، تحقیق کرے، کون ہے جو خود کو " سرنڈر" کر دے"----میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچئیے؛
ڈوب کے پا جا سراغ ذندگی۔۔۔گر تو کسی کا بھی نہ بن سکا تو کم از کم خود کی پہچان تو پا لے گا ناں-




جمعرات، 8 مئی، 2014

ﺍﺩﻧﯽٰ ﺩﺭﺟﮯ ﮐﺎ ﻗﺎﺗﻞ


ﺭﻭﭨﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻥ ﮐﮯ
ﺳﮩﺎﺭﮮ ﺑﮭﯽ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔۔ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺎﻥ ﺭﻭﻧﺪ
!ﮈﺍﻟﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﯾﮏ ﺍﺩﻧﯽٰ ﺩﺭﺟﮯ ﮐﺎ ﻗﺎﺗﻞ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ 


خدا کی قدرت کا نمونہ






اسکندریہ سے بحیرہ روم کی طرف شمال کے رخ جائیں تو اللہ تعالی ایک بڑی نشانی جسکا سورہ رحمن میں ذکر آیاہے ملتی ہے۔ سمندر کے نمکین پانی کی نہر اور دریائے نیل سے میٹھے پانی کی نہر ساتھ ساتھ چلتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ مگر ان کا پانی ایک دوسرے میں مکس نہیں ہوتا۔ نہ جانے کب سے یہ ایسے ہی چل رہی ہیں یہ دونوں نہریں۔ اس طرح کا نمونہء قدرت بحرین میں بھی پایاجاتا ہے ۔جہاں سمندر کے اندر سے میٹھے پانی کے چشمےنکلتے ہیں۔ ایک نمونہ برازیل میں بھی ہے۔ سبحانہ و تعالی عما یصفون۔

(وَهُوَ الَّذِي مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَحِجْرًا مَحْجُورًا ) الفرقان/53.
( أَمَّنْ جَعَلَ الأرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِلالَهَا أَنْهَارًا وَجَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لا يَعْلَمُونَ ) النمل/61.
( وَمَا يَسْتَوِي الْبَحْرَانِ هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَائِغٌ شَرَابُهُ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ ) فاطر/12.
( مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ . بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَا يَبْغِيَانِ . فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ) الرحمن/19-21.

ایک گہری سوچ کی رات کے بعد، صبح نو کو اسلام والیکم ( آج سے پر کچھ نہ کچھ پیش خدمت رہے گا انشاء اللہ تعالی)

جیسے کہ بچہ، جس کی سلیٹ پہ کچھ نہیں ہوتا، اسکے من پہ جو لکھو بڑی آسانی سے لکھا جاتا ہے، وہی بچہ اچھی صحبت کا حامل رہے گا تو وہ نہ صرف خود کے بلکہ اپنے ماحول کے لئیے علامہ اقبال کا شاہیں ثابت ہو گا،
ورنہ نسبت کی دوری و مجہوری کسی کو عمر جیسا نام عطا ہونے کہ باوجود اپنی ناعاقبت اندیشی اور جہل کا ساتھ دینے کے عوض آخر کار ابو جہل قرار  دیا-
در لگتا ہے بعض دفعہ کہ میں خود کو نمایاں کرنے کے چکر میں کہیں کسی کے لئیے جہالت کا  لمحہ تو نہیں بن جاتا اور جسکے عوض اپنی دانست میں اچھا بننے کے بجائے مزید اندھیروں کا امیں نہ بن جاؤں- بس یہی سوچ  جب مجھے قرآن مجید کے اسرار آمیز حروف کے سامنے لے جاتی ہے تو وہیں جدھر مجھے جلال کبرئیا کا فروغ ڈرائے رکھتا ہے ،اسی لمحے رحمت کی انبساط مجھے کرم ے آنچل سے  سرگوشی کرتے یہ پیام دیتی ہے کہ ،" اے بنی آدم، تو مٹی کا ماٹی ہے، تو ہیست سے ہو کت نئیست کیلیئے آیا ہے، تیری ذات کی پھلجھڑیاں صرف دیکھاوا ہیں جبکہ الست کی " قالو بلی" کچھ اور ہی بات ہے اور اسکی انگرشیا یہاں کی منوکامنا نہیں پروت کرتی نی ان میں گیاں کہ وہ ایک سالک کو زمانے کی چرخی کا الٹا رخ دیکھا کر مجہور کرے-
انہی ساعتوں کے عمیق سندھان سے یری روز ہی تقریباُ علیک سلیک ہوتی ہے، وہ رنگ برنگ کے گیروی لباس اوڑھے ،چندر مکھی کی مانند گاوں کی پگڈنڈیوں پر ایک صبح کے جھونکے کی مانند ٹھنڈی مہکار راہ فکر میں چھوڑے جاتی ہے-
مگر کوئی یہ نہیں سمجھ سکا کہ چندر مکھی کے وجود زن کا پتو اسکے کنچن بدن کی اگیا کیونکر لیتا رہا اور کب وہ ایک سنتوش مایا سے اصلوب کی پرکشا دیتی ہوئی ایک ایسی دیا بن گئی جو باتی بھی خود اور روشنی بھی خود بنکر ، ڈھونڈ دھونڈ کر سنتاں کے گھپ اندھیروں سے من کے مسافروں کو راہ دیکھاتی رہتی ہے -
ہمارے ہاں تمتمے دار کرتوں ،بوسکی کی قمیض اور لاٹھے کا کلف کئیے ،لمبی داڑھی رکھے اور  عطر کی بوتل انڈیلے ایک قمقاری طرح کی سلائی آنکھوں میں میچے سرمے کی ،ایک مولوی کا عمل دخل عشق و اصل کی معرفت کےراستے میں سنگ میل رکھتا ہے ،جسکا علم مسجد کی قندیلوں سے ہوتا ہوا محراب اور پھر میناروں کی چونچ کی کلائی پر ختم ہو جاتا ہے،
اب یہاں مقصد اس ملا کی جگ ھنسائی نہیں ،بلکہ صرف یہ جانکاری لینا ہے کہ کیا میرا رب صرف مولوی کی مسجد کی کنجئیوں تک ہی مقید ہے؟- کیا میرے نبی پاک (ﷺ) کے مطہر فرماں جزدانوں کی زینت ہیں اور کیا مجھے ساری عمر رب کو کھوجنے کہ بجائے فقط " جنت" اور "جہنم" کا افکار جاننا ہے اور پھر کسی بھنبوڑی ہوئی ادھ کھائی لاش کی مانند کسی بے سرے گائیگ کی 
                                                                                                                       (طرح کلمہ پڑھ کر خود کو  جنت کی حوروں کا امین ٹھیرانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔( جاری ہے


منگل، 18 مارچ، 2014

ھمارا اپنا پن کھو چکا ہوتا ہے


ہم سے لوگ ہمکلام تبھی ہوتے جب انکے اندر ھمارا اپنا پن کھو چکا ہوتا ہے، وہ فقط اپنی ہی طلب، ادھورے پن کو مکمل کرنے آتے اور جاتے رہتے، اور اسی طرح ایک دن ہم اپنی طلب کو مکمل کرنے اس جہاں کو جہاں کر جاتے چپکے سے-------ھمیں بھی تو مکمل ہونا ہے ناں آخر کو!۔ 


جمعہ، 7 مارچ، 2014

عورت


موت کا ایک دن معین ہے نورین، وہی ہے وہ دن جب عورت،ایک حقیقی عورت سکھ سے آنکھیں موند کر سو جاتی ھمیشہ کو- ورنہ ساری عمر وہ ایک ایثار کی مشعل بن کر جاگتی رہتی ہے- اے عورت تجھے جینا ہے، جلنا ہے بکھرنا ہے، فنا ہونا ہے ،کیونکہ تجھ سے زمانہ ہے، ذندگی ہے- تو ہے تو سبھی رنگ ہیں ہیں- جنت کی خوشبو ہے، آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ،تو آدم کی ہمنوا ہے، انبیاء کی رفیقہ ہے، مجاہدوں کی جنم ماں ہے- تو سب ہے ،تجھے جو سمجھنا چاہے وہ کمبخت ہے، کبھی ماں کی بھی کھوج کسی بدبخت نے کی ہے کبھی-----اے عورت تو واقعی لا جواب ہے کیونکہ تیری کوکھ میں ربا جی نے رکھی میرے اسلاف کی پیدائش- تو ذہین ہے ورنہ تیری گود کو اولیاءاکرام کی پہلی تربیت گاہ نہ کہی جاتی، الغرض؛ عورت نہ ہوتی تو یقین کریئے، آج جو آپ ہیں وہ ممکن نہ ہوتا کبھی-
 


تمہاری حیثیت فقط ایک کردار کے........


کل شام کچھ لمحے میسر ہوئے مجھے تو میں نے اپنا سکیچ بورڈ اٹھایا اور سامنے والی پہاڑی پر جا بیٹھا، لمحے صدیاں سی لگیں، علم ہی نہ ہوا کہ میری سوچ کی پرواز میں سامنے کی ٹیکری پر ہندو بنئیے کی شاطر نظر مجھے اپنی دور بین سے کھوج رہا ہے، ہوش تب آیا جب ایک زناٹے سے سنسناتی گولی میرے بیٹھنے والی جگہ سے فقط ۵ فٹ کے فاصلے پر برف میں گھستی گئی،اور برف کی معصوم کرچیاں ایک خون نما کنکریاں سی بن کر میرے وجود بتاں میں کھبتی سی گئیں، اور میں وہیں برف پر دراز ہو سا گیا-
دو چار گولیاں اسی جگہ پر آ کر لگیں جدھر میں بیٹھا تھا کچھ لمحے پہلے-
وہیں بیٹھے بیٹھے میں نے ماحول پر نظر ڈالی،
سب چیزیں بلکل ویسے ہی تھیں جو مجھ پر گولیوں کی بوچھاڑ سے پہلے تھیں، مجھے بے ساختہ ہنسی آ گئی کہ زار خان شکر کر ربا جی کا کہ بچت ہو گئی ورنہ تو یہ بنئیہ کسی جوگے کا رہنے نہ دیتا اگر تم برف پر خود کو نہ پھینکتے-
مگر اسی لمحوں کے اندر ،کسی ایک لمحے میں لگا، ربا جی نے للکارا ہو جیسے، کہ نادان ،تو کیا، تیری بساط کیا؟ میرا کرم نہ ہوتا تو تیری پہچان کدھر کی رہتی!!!!!!!!!
اور اسی لمحے مجھے لگا کہ زار خان کی تو کوئی حیثیت نہیں، ہاتھ میں تھاما وہ سکیچ بک مجھے بہت بڑا لگا اور خود ایک بونا سا مجھے محسوس ہوا اپنا آپ- تھکے قدموں سے جب ایریا کلیرینس ملی واپس پلٹا تو مجھے اچھی طرح سمجھ آ چکی تھی یہ بات کہ ، زارخھاف خان اس ماحول میں تمہاری حیثیت فقط ایک کردار کے علاوہ کچھ نہیں، تم جو خود کو کچھ سمجھتے ہو وہ بھی صرف ایک کرم ہے ورنہ گولی کا چوکنا یا نہ صرف اس ذات بابرکات کی مرضی پر انحصار کرتا ھماری اپنی کوئی وش نہیں ہوتی ھم تو فقط کرداروں سے ذیادہ نہیں-
بھائی! بس سمجھ لو اب خود کی بساط ،فقط ایک کردار کے علاوہ کچھ نہیں، لحاظہ اپنا کردار بس بہتر سے بہتر کرتے جائیے- آمین



منگل، 18 فروری، 2014

تُو غالبؔ


کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو
نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو
وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں
سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سر گراں کیوں ہو
کِیا غم خوار نے رسوا، لگے آگ اس محبّت کو
نہ لاوے تاب جو غم کی، وہ میرا راز داں کیوں ہو
وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا
تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو
قفس میں مجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدم
گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو
یہ کہہ سکتے ہو "ہم دل میں نہیں ہیں" پر یہ بتلاؤ
کہ جب دل میں تمہیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو
غلط ہے جذبِ دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہے
نہ کھینچو گر تم اپنے کو، کشاکش درمیاں کیوں ہو
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں
عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو
کہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی
بجا کہتے ہو، سچ کہتے ہو، پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو
نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تُو غالبؔ
ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو





جمعہ، 14 فروری، 2014


سات مرتبہ میں نے اپنی روح کو حقیر جانا۔،۔،

پہلی مرتبہ اس وقت جب میں نے دیکھا کہ وہ بلندیوں میں پرواز کرنا چاہتی تھی لیکن وہ بہت مسکین اور عاجز نظر آتی تھی۔۔۔

دوسری مرتبہ اس وقت جب میں نے دیکھا کہ وہ اپاہج کے سامنے لنگڑا کر چل رہی ہے۔۔۔

تیسری دفعہ اس وقت جب روح کو رنج و محن اور عیش و عشرت میں سے ایک چیز کو منتخب کرنے کا موقع دیا گیا اور میں نے دیکھا کہ اس نے عیش و آرام کو منتخب کر لیا۔۔۔

چوتھی مرتبہ میں نے روح کو اس وقت حقیر جانا جب اس نے ایک غلط کام کیا اور جواب طلبی پر یہ کہا کہ دوسرے لوگ بھی تو غلط کام کرتے ہیں مجھ سے غلطی ہو گئی تو کیا ہوا۔۔۔

پانچویں مرتبہ میں نے اپنی روح کو اس وقت حقیر و ذلیل جانا جب وہ اپنی کمزوری پر قانع ہو کے بیٹھ گئی اور صبر و تحمل کو ذاتی قوت پر محمول کرنے لگی۔۔۔

چھٹی مرتبہ میں نے اپنی روح کو اس وقت حقیر سمجھا جب اس نے ایک بدصورت چہرے کو حقارت کی نظر سے دیکھا اور وہ یہ نہ جانتی تھی کہ یہ بدصورتی بھی تو اس کا اپنا ہی بہروپ تھا۔۔۔

ساتویں دفعہ میں نے اپنی روح کو اس وقت حقیر جانا جب وہ اپنی تعریف میں نغمے گانے لگی اور اسے نیکی اور خوش خلقی کی نشانی سمجھنے لگی۔۔۔۔۔۔۔