عارفوں کی سادہ گفتگو لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
عارفوں کی سادہ گفتگو لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 28 مئی، 2014

حضرت شیخ رکن الدین العالم علیہ الرحمہ


حضرت شیخ رکن الدین العالم علیہ الرحمہ نے اپنے وصال سے پہلے اپنے ارادت مندت کے ہجوم سے خطاب کرت ہوئے فرمایا کہ
" دوستو! یہ دنیا ایک سارئے ہے۔ جو لوگ اس دنیا میں مسافروں کی طرح رہتے ہیں اور اس کی کسی چیز سے دل نہیں لگاتے تو جب داعی اجل سے بلاوا آتا ہے ہے تو وہ خوشی سے اپنے مالکِ حقیقی کی طرف سفر کرتے ہیں اور انہیں اس دنیا کو چھوڑنے کا ذرا بھی ملال نہیں ہوتا لیکن جو لوگ اس دنیا کو اپنا مسکن بنا دیتے ہیں انہیں اس دنیا کو چھوڑتے وقت ضرور تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ 
دوستو! 
میں تم ہی میں پیدا ہوا اور تم میں ہی جوان ہوا اور تم میں ہی رہ کر بڑھاپے کی منزلیں طے کر رہا ہوں۔ آج میں اس مقام تک پہنچ چکا ہوں جہاں سے انسان اپنے ملک کی طرف بڑھ جائے جہاں اس کا ابدی سکون موجود ہے۔ ممکن ہے کہ آج کے بعد ہم پھر نہ ملیں اس لیے اگر کسی کو مجھ سے کچھ لینا ہو تو وہ مانگ لے اور اگر کسی کو میری طرف سے تکلیف پہنچی ہو تو وہ اسی دنیا میں اپنا بدلہ چکا لے"
اللہ آپؒ پر رحمت نازل فرمائے اور ان کے صدقے ہماری مغفرت فرمائے۔ آمین




منگل، 27 مئی، 2014

ایک کہانی


ایک کہانی مثنوی مولانا روم کی ہے کہ کوئی چور تھا ، تو اس کے اندرکچھ پیسہ بنانے کی خواھش پیدا ہوئی، کیونکہ وہ اپنی محبوب بیوی کو کچھ دینا چاہتا تھا یا اپنی ذات کے لئے رکھنا چاہتا تھا -
اس نے ایک رات ایک گھر کے روشن دان میں سے کمرے میں داخل ہونے کی کوشش کی کہ یہ اچھا گھر ہے ،اور مجھے یہاں سے کوئی مال و مطاع ملے گا ، لیکن جب وہ اتنا اونچا چڑھا ، اور روشن دان کے اندر سے گزرنے کی کوشش کی ، تو وہ روشن دان جس کا چوکھٹا بظاہر ٹھیک نظر آتا تھا ، ڈھیلا لگا تھا , وہ بمع چوکھٹے کے اندر کے فرش پر سر کے بل آگرا ، اور اس کو سخت چوٹیں آئیں ، چنانچہ اس نے وہ چوکھٹا اٹھایا اور قاضی وقت کے پاس شکایات کے لئے لے گیا -
دیکھیں کیا کمال کے آدمی تھے - اس نے کہا ، جناب دیکھیں میں چوری کرنے کے لئے وہاں گیا تھا - یہ کیسا نالائق مستری ہے کہ جس نے ایسا چوکھٹا بنایا کہ یہ ٹوٹ گیا ہے ، اور کرچیاں کرچیاں ہو گئیں ہیں تو اس کو سزا ملنی چاہئے -
قاضی وقت نے کہا ، یہ تو واقعی بری بات ہے - اس لکڑی بیچنے والے کو بلایا گیا ، چنانچہ وہ پیش ہوگیا - اس نے کہا ، جناب اس گھر کی کھڑکی تو میں نے بنائی تھی - اس سے کہا گیا تم نے ایسا قسم کی ناکارہ لکڑی لگائی - اس نے کہا جناب اس لکڑی کو بھی دیکھ لیں کسی سے ٹیسٹ کروائیں اس میں کوئی نقص نکلا تو میں ذمیدار ہوں -
حضور بات یہ ہے کہ اس میں خرابی ہماری لکڑی کی نہیں اس ترکھان کی ہے جس نے یہ چوکھٹا ڈائیمنشن کے مطابق نہیں بنایا -
انھوں نے ترکھان یا بڑھئی کو بلایا ہے وہ پیش ہوگیا - ترکھان نے کہا میں نے چوکھٹا بلکل ٹھیک بنایا ہے یہ میرا قصور نہیں آپ ماہرین بلوا لیں وہ بتادیں گے میرے چوکھٹے میں کوئی خرابی نہیں - میں یقین سے کہتا ہوں یہ چوکھٹا بلکل ٹھیک ہے - راج معمار جس نے اس کو فٹ کیا تھا یہ ساری کوتاہی اس کی ہے چنانچہ راج معمار کو بلوایا گیا وہ عدالت میں پیش ہوگیا -
قاضی وقت نے کہا ، اے نالائق آدمی بہت اعلا درجے کا چوکھٹا بنا ہوا ہے ڈائی مینشن اس کی درست ہے تو نے کیوں "موکھا " اس کا ڈھیلا بنایا ، تو نے صحیح طور پر اسے فٹ کیوں نہیں کیا -
اس نے سوچا واقعی عدالت ٹھیک پوچھ رہی ہے - چوکھٹے میں اور دیوار میں فاصلہ تو ہے - اس نے کہا حضور بات یہ ہے ، مجھے اب یاد آیا ، جب میں چوکھٹا لگا رہا تھا تو میں نے باہر سڑک پر دیکھا اس وقت ایک نہایت خوبصورت عورت اعلا درجے کا لباس پہنے ، بے حد رنگین لہنگا اور بے حد رنگین دوپٹہ اوڑھے جا رہی تھی ، مزے سے اٹھکھیلیاں کرتی ہوئی ، تو میری توجہ اس کی طرف ہو گئی - جب تک وہ سڑک پر چلتی رہی میں اس کو دیکھتا رہا میں پوری توجہ نے دے سکا اور چوکھٹے کو صحیح طرح سے نہ لگا سکا -
انھوں نے کہا اس عورت کو بلاؤ ، عورت کو سب تلاش کرنے لگے ، شہر میں سب جانتے تھے جو چھمک چھلو تھی کہ وہ وہی ہو گی سو عدالت میں پیش کر دیا گیا -
پوچھا گیا کیا تم یہاں سے اس روز گزری تھیں ؟ کہا ہاں میں گزری تھی - اس نے کہا تم نے ایسا لہنگا پہنا ، ایسا غرارہ پہنا تھا ، تو کیوں پہنا تھا ؟
حضور بات یہ ہے کہ میرے خاوند نے مجھ سے کہا یہ تم کیا ڈل کلرز پہنتی ہو - یہ کچھ اچھے نہیں لگتے ، تمہارے رخ زیبا کے اوپر یہ کپڑے سجتے نہیں ہیں - بہت اعلا قسم کے شوخ ، اور بھڑکیلے قسم کے پہنو -
عدالت نے کہا اس خاوند کو حاضر کیا جائے ، چنانچہ وہ اس کے خاوند کو پکڑ کر لے آئے ، عدالت کے سامنے پیش کر دیا - وہ خاوند وہی شخص تھا ، جو روشن دان سے چوری کرنے کے لئے اترا تھا-
اس کی خواہش میں وہ خود کھڑا تھا - اتنا چکر کاٹ کر آدمی کو پتا نہیں چلتا کہ اس کے ساتھ کیا گزر رہی ہے - وہ کہاں پر اپنی ہی خواہش ، اپنی ہی آرزو کے درمیان کھڑا تھا -
از اشفاق احمد زاویہ ١ صفحہ ٢٥٨


جمعہ، 14 مارچ، 2014

محبوبِ الہیٰ


مرشد سے محبت

کہتے ہیں کہ ایک دن ایک سید زادہ 
حضرت نظام الدین اولیاء کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی "یا حضرت میں ایک غریب سید زادہ ہوں اور سر پر جوان بیٹیوں کا بوجھ ہے۔۔ سادات گھرانے کی نسبت ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ بھی نہیں لے سکتا۔ آپ میرے دینی بھائی ہیں اور سید بھی ہیں آپ میری مدد کریں کچھ۔"
آپ نے اس کو عزت و تکریم کے ساتھ بٹھایا اور خادم سے بلا کر کہا کہ آج کوئی نذر و نیاز آئی خانقاہ میں؟ تو خادم نے عرض کی "سیدی ابھی تک تو کوئی نہیں آئی لیکن جیسے ہی آئی میں آپ کو اطلاع کر دوں گا-"
آپ نے سید زادے کو تسلی دی اور کہا اللہ پہ بھروسہ کرے وہ دست غیب سے کوئی نہ کوئی انتظام فرما دے گامگر تین دن گزر گئے کوئی نیاز نہ آئی سید زادہ بھی مایوس ہوگیا کہ ایویں باتیں مشہور ہیں ان کے بارے میں یہاں تو کوئی مدد ہی نہیں ہو سکی میری-
ایک دن اس نے اجازت طلب کی واپسی کیحضرت محبوب الہیٰ کو بہت دکھ ہوا
کہ مہمان خالی ہاتھ گھر سے جا رہا ہے آپ نے اس کو چند پل کے لیئے روکا
اور اندر سے اپنے نعلین لا کر دے دیئے اور کہا بھائی اس فقیر کے پاس تمھیں دینے کے لیئے اپنے ان جوتوں کے علاوہ کچھ نہیں وہ سید زادہ جوتے لیکر چل پڑا اور سوچنے لگا کہ ان پرانے بوسیدہ جوتوں کا کیا کروں گا حضرت نے اچھا مذاق کیا ہے میرے ساتھ-
دوسری طرف کی سنیئے. . .سلطان محمد تغلق کسی جنگی مہم سے واپس آرہا تھا اور حضرت امیر خسرو جو حضرت نظام الدین اولیا ء کے خلیفہ بھی تھے
سلطان کے ساتھ تھے اور چونکہ آپ ایک قابل قدر شاعر تھے اس لیئے دربار سلطانی میں اہمیت کے حامل تھے_ آپ نے سلطان کی شان میں قصیدہ کہا
تو سلطان نے خوش ہو کر آپ کو سات لاکھ چیتل (سکہ رائج الوقت )سے نوازا
اپنے واپسئ کے سفر پر جب ابھی لشکر سلطانی دہلی سے باہر ہی تھا
اور رات کو پڑاؤ کیا گیا تو اچانک امیر خسرو چلا اٹھے مجھے اپنے مرشد کی خوشبو آتی ہے- مصاحب بولے امیر حضرت محبوب الہیٰ تو کیلوکھڑی میں ہیں جو دہلی سے کافی دور ہے تو آپ کو انکی خوشبو کیسے آ گئی مگر امیر خسرو بے قرار ہوکر باہر نکل پڑے اور خوشبو کا تعاقب کرتے کرتے ایک سرائے تک جا پہنچے- جہاں ایک کمرے میں ایک شخص اپنے سر کے نیچے کچھ رکھ کر سویا ہوا تھا اور خوشبو وہاں سے آ رہی تھی- آپ نے اس کو جگایا اور پوچھا تو حضرت نظام الدین کی خانقاہ سے آ رہے ہو کیا؟ تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بولا 'ہاں'
آپ نے اشتیاق سے پوچھا کیسے ہیں میرے مرشد؟ وہ شخص بولا وہ تو ٹھیک ہیں اور میں ان کے پاس مدد کے لیے گیا تھا مگر اور کچھ تو دیا نہیں ہاں اپنے پرانے بوسیدہ جوتے ضرور دیئے ہیں یہ سنتے ہیں امیر خسرو کی حالت غیر ہو گئی اور کہنے لگے کہاں ہیں میرے مرشد کے نعلین ؟
تو اس نے ایک کپڑا کھول کر دکھا دیئے آپ نے ان کو پکڑا چوما اور اپنی آنکھوں سے لگایا اور کہنے لگے کیا تو ان کو بیچے گا؟ اس نے کہا امیر کیوں مذاق اڑاتے ہو امیر خسرو بولے مذاق نہیں میرے پاس اس وقت سات لاکھ چیتل ہیں وہ لے لو مگر میرے مرشد کے نعلین مجھے دے دو اور اگر چاہو تو دہلی چلو اتنی ہی رقم اور دے دوں گا تمھیں- سات لاکھ چیتل کا سن کر وہ چکرا گیا اور بولا نہیں بس میرا تو چند ہزار سے گزارا ہو جائے گا مگر امیر خسرو نے زبردستی اس کو سات لاکھ چیتل دیئے اور ساتھ میں سپاہی اور تحریر دے دی تا کہ کوئی اس پر شک نہ کرے-
اور پھر امیر خسرو اس حالت میں خانقاہ مرشد میں داخل ہوئے کہ جوتے اپنی دستار میں لپیٹ رکھے تھے اور سر پر رکھے بڑھے چلے آ رہے تھے اور زارو قطار رو رہے تھے- حضرت نظام الدین اولیاء نے مسکراتے ہوئے پوچھا
"خسرو ہمارے لیئے کیا لائے ہو؟"
امیر نے جواب دیا سیدی آپ کے نعلین لایا ہوں-
"کتنے میں خریدے؟"
حضرت نظام الدین اولیاء نے استفسار کیا
"سات لاکھ چیتل امیر نے جوابا" عرض کی
"بہت ارزاں لائے ہو۔" محبوب الہیٰ مسکراتے ہوئے بولے-
جی سیدی سات لاکھ چیتل تو بہت کم ہیں اگر وہ سید زادہ میری جان بھی مانگتا تو جان دے کر نعلینِ مرشد حاصل کر لیتا-
یہ تھی ان کی اپنے مرشد سے محبت
اور حضرت نظام الدین اولیاء کا مقام معرفت
جس کی وجہ سے ان کو محبوبِ الہیٰ کہا جاتا ہے.


جمعرات، 13 مارچ، 2014

ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺑﺎﯾﺰﯾﺪ ﺑﺴﻄﺎﻣﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤۃ


ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺑﺎﯾﺰﯾﺪ ﺑﺴﻄﺎﻣﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤۃ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ 
ﮐﮧ
" ﺟﺐ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﮔﺬﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﺿﻮ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺣﺪﺙ ﺍﺻﻐﺮ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍﮔﺮ ﺟﻨﺖ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﮔﺬﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻏﺴﻞ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺣﺪﺙ ﺍﮐﺒﺮ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺩﻝ ﺳﺮﺩ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺧﯿﺎﻝ ﺳﮯ ﺩﻝ ﻟﭙﮑﺘﺎ ﭼﭙﮑﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ، ﺻﺮﻑ ﮔﺬﺭ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺟﻨﺖ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻃﺮﻑ ﺣﻮﺭﯾﮟ، ﻧﮩﺮﯾﮟ، ﻏﻠﻤﺎﻥ، ﺩﻭﺩﮪ، ﺷﮩﺪ، ﺷﺮﺍﺏ، ﻣﺤﻞ ﻣﺎﺭﺍٔﺕ ﻋﯿﻦ ﻭﮦ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺁﻧﮑﮫ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﻧﮧ ﮐﺎﻥ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﻧﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺴﯽ ﺑﺸﺮ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ۔ ﺍﯾﺴﯽ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ! ﺟﺐ ﺍﺱ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﻝ ﮔﻢ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﻝ ﻟﭙﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﭙﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺟﻨﺎﺑﺖ ﮐﮯ ﺩﺭﺟﮧ ﻣﯿﮟ ﺣﺪﺙ ﺍﮐﺒﺮ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻏﺴﻞ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ 
”ﻃﺎﻟﺐ اﻟﻤﻮﻟﯽٰ ﻣﺬﮐﺮ ﻭ ﻃﺎﻟﺐ ﺍﻵﺧﺮۃ ﻣﺆﻧﺚ ﻭ ﻃﺎﻟﺐ ﺍﻟﺪﻧﯿﺎ ﻣﺨﻨﺚ“۔ 
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻃﺎﻟﺐ ﻣﺮﺩ ﮨﮯ، ﺁﺧﺮۃ ﮐﺎ ﭼﺎﮨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﺎ ﺍﺱ کی ﺭﻭﺡ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﻃﺎﻟﺐ ﻣﺨﻨﺚ ﮨﮯ۔


منگل، 18 فروری، 2014

حضرت سرّی سقطی رحمۃ اللہ علیہ


حضرت سرّی سقطی رحمۃ اللہ علیہ بغداد میں حقائق توحید کے ذکر میں بڑے مشہور تھے، آپ بہت بڑے صاحب طریقت ولئ کامل تھے، تبلیغ دین اور شریعت کی اشاعت آپ کا نصب العین تھا، آپ اپنے کاروبار میں بہت ہی کم منافع لیا کرتے تھے، حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے بھانجے تھے،
آئیے آپ کی تعلیماتِ عالیہ ملاحظہ کریں:
(۱) امیر پڑوسیوں، پیشہ ور قاریوں اور بد خُلق علماء سے دور رہو۔
(۲) جو شخص چاہے کہ اس کا دین سلامت رہے، جان و مال کی خیر ہو اور غم میں کمی ہو، اُسے چاہئے کہ خلق سے مناسب فاصلہ رکھے۔
(۳) کھانا اتنا کھانا چاہئے جس سے زندگی قائم رہے۔
(۴) کپڑے پہننے میں نمائش باعثِ عذاب ہے۔
(۵) رہائش کے لئے محلات بنانے سے جنت نہیں مل سکتی۔
(۶) وہ علم بیکار ہے جس پر عمل نہ کیا ہو۔
(۷) مومن وہ ہے جو کاروبار زندگی میں بھی یادِ الٰہی سے غافل نہ ہو۔
(۸) کاش تمام مخلوقات کا غم میرے دل پر ہوتا تاکہ سب فارغ البال ہوتے۔
(۹) اگر کوئی اپنے ادب سے عاجز آتا ہے تو دوسروں کے ادب سے ہزار بار عاجز آتا ہے۔
(۱۰) تم کو ایسے بہت سے لوگ ملیں گے جن کا فعل ان کے قول سے مطابق نہیں رکھتا، مگر بہت کم ایسے بھی ملیں گے جن کا فعل و عمل ان کی زبان سے عین مطابق ہو۔
(۱۱) سب سے بڑا دانشور وہ ہے جو کلام اللہ شریف کی آیات مبارکہ پر غور و فکر کرے اور ان سے تدبر و تفکر کو کام میں لائے۔
(۱۲) جو اپنے نفس کا طیع ہوجاتا ہے اس کے لئے تباہی کے سواء کچھ نہیں ہے۔
(۱۳) جو شخص اپنے آپ کو بلند مرتبہ کہلوانا پسند کرے نگاہِ حق سے گرجاتا ہےؤ
(۱۴) حسنِ خُلق یہ ہے کہ خلقت تجھ سے راضی ہو۔
(۱۵) محض گمان پر کسی سے علاحدگی اختیار مت کرو۔
(۱۶) بغیر عتاب کے کسی کی صحبت مت چھوڑو۔
(۱۷) اس شخص سے بچو جو باعزت ہو کر مجلس میں بیٹھے اور بے عزت ہوکر نکالا جائے۔
(۱۸) عشق حقیقی تو وہ ہے جو جذبہ عمل کو تیز کردے۔
(۱۹) حق پر چلنے والے کا پاؤں شیطان کے سینہ پر ہوتا ہے۔
(۲۰) علم کی مثال سمندر جیسی ہے خواہ کتنا ہی خرچ کرو کم نہ ہوگا۔




ﺍﺯ ﺣﻀﺮﺕ ﺷﯿﺦ ﻓﺮﯾﺪ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻋﻄﺎﺭ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺗﺬﮐﺮﺓ




ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ۔۔۔

ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺣﯿﺮﺕ ﺯﺩﮦ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ -

ﺍﻭﻝ ( ﻣﺨﻨﺚ ) ﯾﻌﻨﯽ ﮨﯿﺠﮍﺍ

ﺩﻭﻡ ﻣﺴﺖ ﺷﺨﺺ

ﺳﻮﻡ ﻟﮍﮐﺎ

ﭼﮩﺎﺭﻡ ﻋﻮﺭﺕ

ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﺐ ﻭﺟﮧ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯽ ﺗﻮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﮨﯿﺠﮍﮮ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺣﺎﻟﺖ ﮐﺎ ﺍﺏ ﺗﮏ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻋﻠﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰﺍﮞ ﻧﮧ ﮨﻮﮞ ﻭﯾﺴﮯ ﻋﺎﻗﺒﺖ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﺧﺪﺍ
ﮐﻮ ﮨﮯ -

ﭘﮭﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻣﺴﺘﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﭽﮍ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻟﮍﮐﮭﮍﺍﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﮐﺮ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮭﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﺮ ﻧﮧ ﭘﮍﻧﺎ -

ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﻡ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺗﻨﮩﺎ ﮔﺮﻭﻧﮕﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﭘﻮﺭﯼ ﻗﻮﻡ ﮔﺮﮮ ﮔﯽ -

ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻗﻮﻝ ﺳﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﮞ -

ﭘﮭﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﺎ ﭼﺮﺍﻍ ﻟﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ؟

ﺍﺱ ﻧﮯ ﭼﺮﺍﻍ ﮔﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﮩﺎﮞ ﻣﻌﺪﻭﻡ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﻭﻧﮕﺎ ﮐﮧ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺁﺋﯽ -

ﭘﮭﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻋﻮﺭﺕ ﻣﻨﮧ ﮐﮭﻮﻟﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﻨﮕﮯ ﺳﺮ ﻏﺼﮯ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﺎ ﺷﮑﻮﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻨﮧ ﺗﻮ ﮈﮬﺎﻧﭗ ﻟﻮ -

ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻘﻞ ﮐﮭﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺁﮔﺎﮦ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﮨﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ -

ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﻋﺠﯿﺐ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻋﺸﻖِ ﺍﻟٰﮩﯽ ﮐﺎ دعویٰ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﺵ ﻭ ﺣﻮﺍﺱ ﭘﺮ ﻗﺎﺋﻢ ﮨﯿﮟ -





ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ۔۔۔ 

ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺣﯿﺮﺕ ﺯﺩﮦ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ -

ﺍﻭﻝ ( ﻣﺨﻨﺚ ) ﯾﻌﻨﯽ ﮨﯿﺠﮍﺍ

ﺩﻭﻡ ﻣﺴﺖ ﺷﺨﺺ 

ﺳﻮﻡ ﻟﮍﮐﺎ 

ﭼﮩﺎﺭﻡ ﻋﻮﺭﺕ 

ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﺐ ﻭﺟﮧ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯽ ﺗﻮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﮨﯿﺠﮍﮮ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺣﺎﻟﺖ ﮐﺎ ﺍﺏ ﺗﮏ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻋﻠﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰﺍﮞ ﻧﮧ ﮨﻮﮞ ﻭﯾﺴﮯ ﻋﺎﻗﺒﺖ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﺧﺪﺍ
ﮐﻮ ﮨﮯ -

ﭘﮭﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻣﺴﺘﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﭽﮍ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻟﮍﮐﮭﮍﺍﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﮐﺮ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮭﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﺮ ﻧﮧ ﭘﮍﻧﺎ -

ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﻡ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺗﻨﮩﺎ ﮔﺮﻭﻧﮕﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﭘﻮﺭﯼ ﻗﻮﻡ ﮔﺮﮮ ﮔﯽ -

ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻗﻮﻝ ﺳﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﮞ -

ﭘﮭﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﺎ ﭼﺮﺍﻍ ﻟﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ؟


ہفتہ، 15 فروری، 2014

حضرت ابراھیم بن ادھم رحمتہ اللہ علیہ


ایک شخص حضرت ابراھیم بن ادھم رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آیا اور کہا.. " حضرت ! کوئی ایسا طریقہ بتائیے جس سے میں برے کام کرتا رھوں اور گرفت نہ ھو.. "

حضرت ابراھیم بن ادھم رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا.. " پانچ باتیں قبول کرلو ' پھر جو چاھے کرو تجھے کوئی گرفت نہ ھوگی..

(1) " اول تو یہ کہ جب تو کوئ گناہ کرے تو خدا کا رزق مت کھا.. "

اس نے کہا.. " یہ تو بڑا مشکل ھے کہ رازق وھی ھے.. پھر میں کہاں سے کھاؤں..؟ "

فرمایا.. " تو یہ کب مناسب ھے کہ تو جس کا رزق کھائے پھر اس کی نافرمانی کرے.. "

(2) " دوسرا یہ کہ اگر تو کوئ گناہ کرنا چاھے تو اس کے ملک سے باھر نکل کے کر.. "

اس نے کہا.." تمام ملک ھی اس کا ھے پھر میں کہاں نکلوں..؟ "

فرمایا.. " تو یہ بات بھت بڑی ھے کہ جس کے ملک میں رھو اس کی بغاوت کرنے لگو.. "

(3) " تیسرا یہ کہ جب کوئ گناہ کر تو ایسی جگہ کر جہاں وہ تجھے نہ دیکھے.. "

اس نے کہا.." یہ تو نا ممکن ھے.. اس لیے کہ وہ دلوں کا بھید بھی جانتا ھے.. "

فرمایا.. " تو یہ کب مناسب ھے کہ تو اس کا رزق کھائے اور اس کے ملک میں رھے اور اسی کے سامنے گناہ کرے.. "

(4) " چوتھا یہ کہ جب ملک الموت تیری جان لینے آئے تو اسے کہ ذرا ٹھرجا.. مجھے توبہ کرلینے دے.. "

اس نے کہا.." وہ مہلت کب دیتا ھے..؟ "

فرمایا.. " تو یہ مناسب ھے کہ اس کے آنے سے پہلے توبہ کرلے اور اس وقت کو غنیمت سمجھ.. "

(5) " پانچواں یہ کہ قیامت کے دن جب حکم ھو کہ اسے دوزخ میں لے جاؤ تو کہنا میں نہیں جاتا.. "

اس نے کہا.. " وہ زبردستی بھی لے جائیں گے.. "

فرمایا.. " تو اب خود ھی سوچ لے کہ کیا تجھے گناہ زیادہ عزیز ھے.."

وہ شخص آپ کے قدموں میں گرگیا اور سچے دل سے تائب ھو گیا.. 


حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ


  

ایک عورت نے حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میری بیٹی فوت ہو گئی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ خواب میں اس کے ساتھ ملاقات ہو جائے۔

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا۔ “نماز عشاء کے بعد چار رکعت نفل پڑھ اور ہر رکعت میں فاتحہ شریف کے بعد سورہ تکاثر ایک مرتبہ پڑھ کر لیٹ جا اور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک پڑھتی سو جا ! “

اس عورت نے ایسا ہی کیا جب سو گئی تو اس نے خواب میں اپنی لڑکی کو دیکھا کہ وہ عذاب میں مبتلا ہے۔ اسے گندھک کا لباس پہنا کر ہاتھوں میں آگ کی ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں پہنا دی گئی ہیں۔

وہ گھبرا کر بیدار ہوئی اور خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ بیان کیا۔ آپ نے سن کر فرمایا، کچھ صدقہ کر ! شاید اللہ تعالٰی اس کو معاف کردے۔ زاں بعد حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے خواب میں دیکھا کہ ایک باغ جس میں ایک تخت بچھا ہوا ہے۔ اس پر ایک لڑکی بیٹھی ہوئی اور اس کے سر پر نورانی تاج ہے۔ اس نے دیکھ کر عرض کی، حضرت ! آپ مجھے پہچانتے ہیں ؟ خواجہ حسن نے فرمایا۔ نہیں۔
یہ سن کر لڑکی نے عرض کی حضرت ! جیسے میری والدہ نے بیان کیا تھا، اس طرح صرف میری حالت ہی نہیں بلکہ اس قبرستان میں ستر ہزار مُردہ تھا جن کو عذاب ہو رہا تھا۔ ہماری خوش نصیبی یہ ہے کہ ہمارے قبرستان کے پاس سے ایک عاشق رسول گزرا اور اس نے درود شریف پڑھ کر ثواب ہمیں بخش دیا تو اللہ عزوجل نے اس دردو شریف کو قبول فرما کر ہم سب پر رحمت فرمائی اور عذاب سے نجات مل گئی اور سب کو یہ انعام و اکرام عطا فرمایا۔ جو آپ مجھ پر دیکھ رہے ہیں .....

(القول البدیع۔ ص 131 نزہتہ المجالس، ص 32۔ سعادۃ الدارین، ص 1229


حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

انسان پر کبھی راستہ بند نہیں ہوتا۔ یہ بات یاد رکھی جائے کہ ہر دیوار کے اندر دروازہ ہے جس میں سے مسافر گزرتے رہتے ہیں۔ مایوسیوں کی دیواروں میں اس کی رحمت امید کے دروازے کھولتی رہتی ہے۔ ۔ انتظار ترک نہ کیا جائے۔
یہی بڑی کامیابی ہے۔ کامیابی کسی نقطے کا نام نہیں ‘ یہ مزاج کا نام ہے۔ بڑے بڑے فاتحین جنگیں ہارنے کے بعد بھی فاتحین ہی رہے۔
حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ                                    




جمعہ، 14 فروری، 2014

جب طالب


جب طالب ہر وقت حضوری میں رہتا ہے . ہر چیز کو جلا کر فنا کر دیتا ہے اور الله کے ساتھہ باقی ہو جاتا ہے. جب فقر کا یہ عالم ہو جائے تو پھر فقیر کا ایک سانس بھی دونوں جہاں میں نہیں سما سکتا. پھر وہ لا مکان میں سانس لیتا ہے. اور دنیا اس کی ہتھیلی پر ہوتی ہے..
سلطان العارفین حضرت سلطان باہو رحمتہ الله علیہ..